اسلام آباد/کراچی: کراچی پورٹ ٹرسٹ نے دو غیر ملکی بلک کیریئرز کو بیک وقت برتھ دے کر مجموعی طور پر 101 ہزار ٹن اہم درآمدی کارگو کی ہینڈلنگ کی ہے۔ ایک جہاز پر 50 ہزار ٹن ڈائی امونیم فاسفیٹ، یعنی ڈی اے پی کھاد، جبکہ دوسرے پر 51 ہزار ٹن گندم لدی تھی۔ دونوں جہاز کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز پر لنگر انداز ہوئے۔

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ دو بڑے جہازوں کی ایک ساتھ ہینڈلنگ کراچی پورٹ کی زرعی ان پٹس اور ضروری غذائی اجناس کو سنبھالنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے پورٹ انجینئرز، آپریٹرز، پائلٹس، ٹرمینل عملے، ڈاک ورکرز اور ٹرانسپورٹرز کی کارکردگی کو سراہا، جنہوں نے کارگو اتارنے کا عمل جاری رکھا۔

وزیر کے مطابق ڈی اے پی کھاد کی بروقت دستیابی زرعی پیداوار کے لیے اہم ہے، جبکہ گندم کی درآمد خوراک کی سپلائی چین سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔ اس لیے بندرگاہ پر جہازوں کے انتظار اور کارگو کلیئرنس میں تاخیر زرعی اور غذائی منڈیوں پر اضافی لاگت ڈال سکتی ہے۔ حکومت نے دونوں جہازوں کو ضروری اشیا کی نوعیت کے پیش نظر ترجیحی برتھنگ دینے کی ہدایت کی تھی۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل شاہد احمد کے مطابق کراچی پورٹ ملک کی تجارت اور سپلائی چین میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، بالخصوص کھاد اور خوراک جیسی اہم درآمدات میں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ بندرگاہی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور آپریشنل کارکردگی بہتر کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزارت بحری امور کا کہنا ہے کہ موجودہ اصلاحات کا مقصد جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم میں کمی، برتھ کے بہتر استعمال، پورٹ مینجمنٹ میں بہتری اور سمندری انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا ہے۔ تیز کارگو ہینڈلنگ سے نہ صرف جہازوں کے قیام کی لاگت کم ہو سکتی ہے بلکہ بندرگاہ سے ملک کے اندر سامان کی ترسیل بھی زیادہ قابل پیش گوئی بن سکتی ہے۔

پاکستان کی زرعی معیشت میں ڈی اے پی ایک اہم فاسفیٹ کھاد ہے، جبکہ گندم بنیادی غذائی جنس ہے۔ دونوں اشیا کی درآمد اور اندرون ملک ترسیل میں بندرگاہی کارکردگی قیمتوں اور دستیابی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم ایک کامیاب آپریشن کو پورے پورٹ نظام کی مستقل کارکردگی کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا؛ اس کے لیے مسلسل ٹرن اراؤنڈ اعداد، برتھ استعمال اور لاجسٹکس کی مجموعی کارکردگی اہم ہوگی۔

حالیہ ہینڈلنگ اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت بندرگاہوں کو بین الاقوامی تجارت، زرعی سپلائی اور ضروری اجناس کی ترسیل کے لیے زیادہ مؤثر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ وزارت کے مطابق ہدف یہ ہے کہ اہم درآمدی سامان بندرگاہ سے جلد کلیئر ہو اور سپلائی چین میں غیر ضروری رکاوٹ کم کی جا سکے۔