کراچی: شہر کے متعدد علاقوں میں طویل اور غیر اعلانیہ بجلی بندش کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے، جس کے باعث کئی اہم راستوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق احتجاج پاک کالونی، لیاقت آباد، غریب آباد، نشتر روڈ، بھیم پورہ اور رنچھوڑ لائن میں ہوا۔ مظاہرین نے بجلی کی فوری بحالی اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض مقامات پر سڑکیں بند ہونے سے ہزاروں مسافروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
لیاقت آباد میں مرکزی چوراہوں پر احتجاج کے باعث سوک سینٹر سے لیاقت آباد کے درمیان آمدورفت کئی گھنٹے متاثر رہی۔ پاک کالونی میں مقامی یونین کمیٹیوں کے ارکان نے رہائشیوں کے ساتھ ریلی نکالی اور کہا کہ روزانہ طویل بجلی بندش سے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ پمپ چلانے کے لیے بجلی دستیاب نہیں رہتی۔ نشتر روڈ پر تاجروں اور بجلی کمپنی کے عملے کے درمیان بلیک آؤٹ کے معاملے پر اختلاف کے بعد احتجاج میں شدت آئی۔
بھیم پورہ اور رنچھوڑ لائن میں دکانداروں نے بھی شہریوں کا ساتھ دیا اور کہا کہ بے قاعدہ بجلی فراہمی سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اسی روز شہر میں چپ تعزیہ کے جلوسوں کے باعث بھی متعدد راستے بند تھے، اس لیے احتجاجی رکاوٹوں نے ضلع جنوبی اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک دباؤ مزید بڑھا دیا۔ ٹریفک پولیس نے متبادل راستے فراہم کرنے کی کوشش کی، مگر ان پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں بن گئیں۔
شہریوں نے دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں روزانہ 12 گھنٹے یا اس سے زیادہ بجلی بند رہتی ہے اور اوقات کار کی اطلاع مختصر وقت پہلے دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق خوراک خراب ہونے، بچوں کی پڑھائی رکنے، رات کے وقت پنکھے نہ چلنے اور پانی کی قلت جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ دورانیہ مظاہرین کے بیانات پر مبنی ہے اور ہر علاقے کے سرکاری لوڈشیڈنگ شیڈول کی آزاد پیمائش نہیں۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے جواب میں کہا کہ بندھانی کالونی اور ریکسر لائن کے علاقوں میں نادہندگان کے واجبات تین ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں اور بجلی چوری و نقصانات کی سطح لوڈشیڈنگ کے دورانیے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کمپنی اور مظاہرین کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں؛ رپورٹ میں کسی حتمی ریگولیٹری فیصلے یا فوری حل کی تصدیق نہیں ہوئی۔ شہری سہولت، بلوں کی ادائیگی، نقصانات اور شفاف شیڈول سے متعلق تنازع کے حل کے لیے کمپنی، نیپرا اور مقامی انتظامیہ کی آئندہ کارروائی اہم ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




