کراچی: شہر کی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے تحت 11 اکتوبر سے 20 اکتوبر 2026 تک احتجاجی اجتماعات، جلوسوں اور دھرنوں سے متعلق پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پانچ سے زیادہ افراد کے ایسے اجتماعات پر بھی پابندی لگائی گئی ہے جن کا تعلق احتجاجی سرگرمیوں سے ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی آمد و رفت اور امن و امان کو متاثر کرنے والے واقعات کی روک تھام ہے۔
انتظامیہ کے مطابق شہر کی مرکزی سڑکوں، چوراہوں اور اہم مقامات پر احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور ریلیوں کی وجہ سے شدید ٹریفک جام ہونے اور سکیورٹی مسائل پیدا ہونے کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سڑکوں کی بندش سے معمولات زندگی میں رکاوٹ، ہنگامی خدمات کی آمد و رفت میں دشواری اور اسپتالوں تک رسائی میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ مؤقف سرکاری فیصلے کی وضاحت ہے؛ کسی خاص سیاسی جماعت یا گروہ کے خلاف جرم ثابت ہونے کا اعلان نہیں۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 انتظامی حکام کو بعض حالات میں عوامی اجتماع یا مخصوص سرگرمیوں پر عارضی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ کراچی میں جاری تازہ حکم کے تحت انتظامیہ نے احتجاجی ریلیوں، مظاہروں، جلوسوں، دھرنوں اور متعلقہ اجتماعات کے انعقاد، انتظام اور شرکت پر مقررہ مدت کے لیے پابندی کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کراچی ڈویژن کی حدود میں لاگو ہوگی۔
سرکاری دستاویز میں بتایا گیا کہ عوامی سڑکوں پر رکاوٹوں کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، شہریوں کو غیر ضروری مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور ہنگامی طبی امداد کی گاڑیوں کی نقل و حرکت رک سکتی ہے۔ انتظامیہ نے ان خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے حفاظتی نوعیت کا عارضی حکم جاری کیا۔ اس پابندی کو مستقل قانون یا تمام شہری سماجی سرگرمیوں پر عمومی پابندی کے طور پر بیان کرنا درست نہیں؛ اس کا دائرہ نوٹیفکیشن میں درج سرگرمیوں اور تاریخوں سے متعلق ہے۔
کراچی جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں سڑکوں کے استعمال، احتجاج کے حق اور عوامی سہولتوں کے درمیان توازن انتظامی و قانونی بحث کا اہم پہلو ہے۔ ایک جانب انتظامیہ امن و امان اور ہسپتالوں تک رسائی کو اپنی ترجیح بتا رہی ہے، دوسری جانب کسی بھی پابندی کے نفاذ میں قانونی حدود اور شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک عمومی آئینی تناظر ہے، نہ کہ تازہ حکم کی قانونی حیثیت کے بارے میں کسی عدالت کا فیصلہ۔
ڈان کی 12 اکتوبر کو شائع رپورٹ کے مطابق کمشنر کے حکم میں پابندی کا آغاز 11 اکتوبر اور اختتام 20 اکتوبر درج ہے۔ اس عرصے میں متعلقہ حکام کے لیے ضابطے پر عمل درآمد اور شہریوں کو واضح معلومات کی فراہمی اہم رہے گی۔ دستیاب رپورٹ میں کسی نئی عدالتی کارروائی یا پابندی کی مدت میں توسیع کا اعلان شامل نہیں، اس لیے ان امور پر کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔
