لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور سے ملک کے مختلف شہروں کے لیے بین الاضلاعی بس سروس اتوار 11 اکتوبر 2026 کو معطل ہو گئی، جس کے نتیجے میں مسافروں کو ٹکٹ منسوخ ہونے، سفر میں تاخیر اور متبادل ذرائع تلاش کرنے جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق شہر کے جنرل بس ٹرمینلز ہفتے کی رات مبینہ طور پر بند کیے گئے تھے، تاہم تمام اڈوں کی بندش کے بارے میں صوبائی حکام کی باقاعدہ تفصیلی وضاحت دستیاب نہیں تھی۔

اس صورتحال کا اثر اسلام آباد، خیبر پختونخوا، سندھ، جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے کئی مقامات کی جانب سفر کرنے والے افراد پر پڑا۔ متعدد مسافروں نے بتایا کہ پہلے سے خریدے گئے ٹکٹ منسوخ ہو گئے یا انہیں بس کی روانگی روک دیے جانے کی اطلاع ملی۔ طویل سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اچانک سروس بند ہونا خاص طور پر مشکل ہوتا ہے کیونکہ متبادل گاڑیاں، رہائش اور سفر کے نئے انتظامات فوری طور پر دستیاب نہیں بھی ہو سکتے۔

بڑی نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں فیصل موورز اور ڈائیوو کے نمائندوں نے ڈان کو بتایا کہ ان کی بسوں کی روانگی روک دی گئی ہے۔ کمپنیوں نے یہ فیصلہ موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر عوامی ٹرانسپورٹ سے متعلق مبینہ پابندیوں کی اطلاعات کے پس منظر میں کیا۔ تاہم موٹروے پولیس کے ترجمان عمران شاہ نے کہا کہ موٹرویز اور ہائی ویز عام ٹریفک کے لیے کھلی ہیں اور انہیں بس سروس معطل کرنے کی کسی ہدایت کا علم نہیں۔ یہ دو مختلف اداروں کے بیانات ہیں جن سے پابندیوں کی عملی صورت حال پر اختلاف ظاہر ہوتا ہے۔

موٹروے پولیس کے ایک اور اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ بسوں کا نہ چلنا تحریک انصاف کے احتجاج کی کال سے منسلک تھا اور نجی گاڑیوں کو شاہراہوں سے گزرنے کی اجازت تھی۔ پنجاب کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ عمران سکندر بلوچ سے ردعمل لینے کی کوشش کی گئی، مگر رپورٹ کی تیاری تک ان کا مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔ اس لیے انتظامی حکم نامے کی نوعیت اور ان پابندیوں کی درست قانونی بنیاد کا حتمی تعین دستیاب معلومات سے نہیں کیا جا سکتا۔

یہ صورتحال اس دوران سامنے آئی جب پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر چار اکتوبر سے مارچ شروع کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مارچ اس مرحلے پر خیبر پختونخوا ہی میں تھا، جبکہ صوابی انٹرچینج اور دریائے سندھ کے قریب ایم ون پر کنٹینروں کی نقل و حرکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ ان اقدامات اور بس سروس کی بندش کے درمیان تعلق کو رپورٹ میں بعض اہلکاروں کے بیانات سے جوڑا گیا ہے؛ اس حوالے سے تمام انتظامی فیصلوں کی مکمل سرکاری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔

مسافروں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لیے اہم مسئلہ یہ تھا کہ کون سے راستے اور اڈے دستیاب ہیں اور سروس کب بحال ہو گی۔ مذکورہ رپورٹ میں بحالی کی کوئی قطعی تاریخ یا وقت نہیں بتایا گیا، اس لیے ایسی پیش گوئی درست نہیں ہوگی۔ یہ خبر سیاسی احتجاج اور ٹرانسپورٹ انتظامات کے باہمی اثرات کی ایک مثال ہے، تاہم صورتحال میں تبدیلی کے لیے متعلقہ حکام اور کمپنیوں کی تازہ اعلانات کو بنیاد بنانا ضروری ہوگا۔