لاہور: پنجاب حکومت نے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے قائم مرکزِ امتیاز کے لیے 50 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم سے ایک خصوصی فنڈ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ مرکز کے بورڈ آف گورنرز کے پانچویں اجلاس میں کیا گیا، جو محکمہ داخلہ پنجاب کے تحت کام کرتا ہے۔ حکام کے مطابق اقدام قومی ایکشن پلان کے تناظر میں صوبائی کوششوں سے متعلق ہے۔

ڈان میں 11 اکتوبر 2026 کو شائع رپورٹ کے مطابق اجلاس کی صدارت کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے چیئرمین خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اس موقع پر ہوم سیکریٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، محکمہ قانون کے سیکریٹری آصف بلال لودھی، محکمہ اوقاف کے سیکریٹری ڈاکٹر احسان بھٹہ، خصوصی سیکریٹری داخلہ زینب خان اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ اجلاس میں بورڈ کے سابقہ فیصلوں کی توثیق کے علاوہ نئے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔

اجلاس میں پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 کی رپورٹ بھی زیر غور آئی۔ حکام کے مطابق صوبے کی 51 جامعات نے اس مقابلے کے لیے 154 منصوبے جمع کرائے تھے۔ ماہرین کی تکنیکی جانچ کے بعد 50 منصوبوں کو حتمی پیشکش کے لیے منتخب کیا گیا۔ پہلی تین پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ نے اپنے منصوبے بورڈ کے سامنے پیش کیے۔

پہلا انعام یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی طالبات کو ڈی این اے ٹیسٹنگ کی لاگت کم کرنے اور معیار بہتر بنانے سے متعلق منصوبے پر دیا گیا۔ دوسری پوزیشن فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ کو کینسر کی تشخیص اور علاج کے اخراجات میں کمی سے متعلق تجویز پر ملی۔ تیسرا انعام سپیریئر یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو بچوں کے موبائل فون پر نامناسب مواد کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل تیار کرنے پر ملا۔

بورڈ نے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن کے لیے بالترتیب دس لاکھ، ساڑھے سات لاکھ اور پانچ لاکھ روپے کے نقد انعامات کا اعلان کیا۔ اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ کامیاب طلبہ کو ان کے منصوبوں کی مزید ترقی اور ممکنہ عملی نفاذ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی، محکمہ صحت اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ منصوبوں کے کامیاب عملی نتائج کی تصدیق ابھی رپورٹ نہیں ہوئی، اس لیے اس فیصلے کو سرپرستی کا ابتدائی قدم سمجھنا چاہیے۔

بورڈ نے محکمہ اطلاعات و ثقافت کو نوجوانوں میں امن کا پیغام عام کرنے کے لیے آگاہی پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کو بھی تعلیمی اداروں میں تقریری، ڈرامہ، مضمون نویسی اور پوسٹر کے مقابلوں کے انعقاد کی ذمہ داری دینے کی اطلاع سامنے آئی۔ ان سرگرمیوں کا مقصد تعلیمی ماحول میں مکالمے اور مثبت شرکت کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔

مرکز کے لیے خصوصی فنڈ کی منظوری، نوجوانوں کے اختراعی منصوبوں کو ادارہ جاتی مدد اور تعلیمی آگاہی سرگرمیوں کے اعلانات اس اجلاس کی تین نمایاں پیش رفت ہیں۔ تاہم فنڈ کے اخراجات، منصوبوں کے عملی نتائج اور پروگراموں کی مؤثریت کے بارے میں بعد کی سرکاری تفصیلات ہی مکمل تصویر فراہم کر سکیں گی۔