کراچی کے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے ایک 18 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق واقعہ شاہ لطیف سیکٹر 22 اے میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے سامنے پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح ملزم نے موٹرسائیکل سوار نوجوان پر فائرنگ کی۔ پولیس نے مقتول کی شناخت مزمل ولد منیر کے نام سے کی ہے۔
رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ مزمل کو شدید زخمی حالت میں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم وہ راستے میں دم توڑ گیا۔ پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق نوجوان کو جسم پر دو گولیاں لگیں اور سینے میں لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔ یہ تفصیل ابتدائی پولیس معلومات ہے؛ حتمی طبی نتیجہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی ریکارڈ سے واضح ہوگا۔
پولیس کے مطابق مسلح ملزم موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نفری موقع پر پہنچی اور شواہد جمع کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کیا گیا۔ حکام نے جائے وقوع سے مواد اکٹھا کرنے کے ساتھ قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش شروع کرنے کا بھی بتایا ہے۔ رپورٹ میں کسی ملزم کی شناخت یا گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
مقتول بھینس کالونی کے سی ٹی اسپتال کے علاقے کا رہائشی اور لیتھ مشین مکینک بتایا گیا ہے۔ خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ اسی روز شہر کے دوسرے مقامات پر نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کے دو الگ واقعات میں ایک مزدور اور ایک نوجوان زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان واقعات کو شاہ لطیف ٹاؤن کی ڈکیتی سے جوڑنے کا کوئی ثبوت رپورٹ میں موجود نہیں۔
ایکسپریس اردو نے پولیس ریکارڈ کے حوالے سے کہا کہ رواں سال کراچی میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 47 ہوگئی ہے۔ یہ تعداد متعلقہ رپورٹ اور پولیس معلومات سے منسوب ہے۔ تفتیش کا اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ سی سی ٹی وی، عینی شہادت، فارنزک مواد اور ممکنہ گرفتاری سے متعلق پولیس کی باضابطہ پیش رفت ہوگا۔




