کراچی: سائٹ ٹاؤن میں حبیب بینک چورنگی کے قریب ایک فیکٹری میں لگنے والی بڑی آگ کو فائر بریگیڈ نے تقریباً چار گھنٹے کی مسلسل کارروائی کے بعد قابو کر لیا۔ چیف فائر آفیسر محمد ہمایوں خان کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا اور آگ بجھانے کے بعد کولنگ کا عمل جاری رکھا گیا تاکہ دوبارہ شعلے بھڑکنے کا خطرہ کم کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق آگ رات تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر لگی اور فیکٹری کی دوسری منزل تک پھیل گئی۔ وہاں پلاسٹک گرینولز، پلاسٹک رولز، ربڑ، فائبر اور دیگر جلد آگ پکڑنے والا سامان موجود تھا، جس کی وجہ سے شعلوں کی شدت میں اضافہ ہوا۔ فیکٹری میں گارمنٹس اور گدوں سمیت مختلف مصنوعات کی تیاری بھی کی جاتی تھی۔

فائر فائٹنگ آپریشن میں 12 فائر ٹینڈرز، ایک اسنارکل، تین واٹر باؤزر اور چھ واٹر ٹینکر استعمال کیے گئے، جبکہ آگ پر قابو پانے کے لیے فوم بھی استعمال کیا گیا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے بتایا کہ مختلف سرکاری ہائیڈرنٹس سے فائر بریگیڈ کو پانی کی مسلسل فراہمی جاری رکھی گئی اور آپریشن کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ گیلن پانی فراہم کیا گیا۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ لگنے کے وقت کچھ افراد فیکٹری کے اندر موجود تھے لیکن وہ فوری طور پر باہر نکل گئے۔ فائر فائٹنگ کے دوران کسی شخص کے اندر پھنسے رہنے کی اطلاع نہیں ملی۔ پاکستان رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی موقع پر موجود رہے اور ریسکیو سرگرمیوں اور سکیورٹی انتظامات میں معاونت کی۔

آگ لگنے کی حتمی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ فائر حکام نے کہا کہ کولنگ کا عمل مکمل ہونے اور مقام کا جائزہ لینے کے بعد وجہ کے تعین کی کوشش کی جائے گی۔ اس مرحلے پر شارٹ سرکٹ یا کسی دوسری وجہ کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ حکام نے ایسی کوئی تصدیق نہیں کی۔

کراچی کے صنعتی علاقوں میں ماضی میں بھی بڑے آتشزدگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جن کے بعد صنعتی عمارتوں میں فائر سیفٹی، پانی کی دستیابی اور ہنگامی رسپانس کی صلاحیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ موجودہ واقعے میں بھاری مقدار میں آتش گیر مواد نے کارروائی کو مشکل بنایا، تاہم حکام کے مطابق مرکزی آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مالی نقصان کا حتمی تخمینہ بھی فوری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔