اسلام آباد: وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات نے 5 اکتوبر کو نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 کا باضابطہ اجرا کر دیا۔ وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات ریاض حسین پیرزادہ نے افتتاحی تقریب میں پالیسی کو ملک کے ہاؤسنگ شعبے کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی جانب اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ مؤثر عمل درآمد کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں اور دیگر فریقوں کو مشترکہ کوشش کرنا ہوگی۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق نئی پالیسی رہائش کی ضروریات کے لیے جامع منصوبہ بندی کا فریم ورک پیش کرتی ہے، جس میں بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی ایک مرکزی مقصد کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ تاہم جاری سرکاری خبر میں پالیسی کے تمام مالی اہداف، سالانہ تعمیراتی تعداد، صوبہ وار کوٹے یا مکمل نفاذی ٹائم لائن کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ماحول دوست اور پائیدار ہاؤسنگ منصوبوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق رہائشی منصوبہ بندی میں صرف مکانات کی تعداد نہیں بلکہ تعمیراتی معیار، وسائل کا مؤثر استعمال اور ماحول پر اثرات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں آبادی کے دباؤ، زمین اور تعمیراتی لاگت، غیر رسمی آبادیوں اور کم آمدن گھرانوں کے لیے قابل برداشت رہائش کی کمی جیسے مسائل طویل عرصے سے ہاؤسنگ پالیسی کے اہم چیلنج رہے ہیں۔ نئی قومی پالیسی کا باضابطہ اجرا ان مسائل کے لیے وفاقی سطح پر ایک پالیسی سمت فراہم کرتا ہے، مگر اس کے عملی نتائج بجٹ، ادارہ جاتی رابطے، زمین کی دستیابی اور صوبائی و مقامی حکومتوں کے تعاون سے منسلک ہوں گے۔
ریاض پیرزادہ نے متعلقہ محکموں اور اسٹیک ہولڈرز سے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ رہائش کا شعبہ زمین، شہری منصوبہ بندی، بلڈنگ کنٹرول، بنیادی سہولتوں، مالیاتی نظام اور ماحولیات سمیت کئی انتظامی دائرہ کار سے جڑا ہوتا ہے۔ صرف وفاقی پالیسی کا اعلان خود بخود مکانات کی فراہمی کے برابر نہیں؛ عمل درآمد کے لیے واضح منصوبوں اور قابل پیمائش اہداف کی ضرورت ہوگی۔
حکومت نے پالیسی کو بے گھر افراد کے لیے رہائش اور پائیدار شہری ترقی کی سمت ایک جامع قدم قرار دیا ہے۔ پالیسی کے اثرات کا درست جائزہ اس وقت ممکن ہوگا جب اس کے تحت منصوبوں، فنڈنگ، اہلیت کے معیار اور عمل درآمد کی پیش رفت سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آئیں گی۔

