اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت نے حکومت کے ساتھ حالیہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کہا ہے کہ پارٹی کے بانی عمران خان کو شامل کیے بغیر سیاسی مصالحت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے خیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذاکرات کے تعطل سے متعلق اپنی جماعت کا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ پارٹی قیادت عمران خان سے مشاورت کو بنیادی شرط سمجھتی ہے۔

سلمان اکرم راجہ کے مطابق پی ٹی آئی نے مذاکرات میں شرکت اس امید کے ساتھ کی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجود سیاسی فاصلے کو کم کیا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے عمران خان کی رائے حاصل کرنے کے لیے ملاقات کا مطالبہ کیا، تاہم یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی نکتے نے مذاکرات میں اہم رکاوٹ پیدا کی۔ یہ پی ٹی آئی کا بیان ہے؛ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کے بارے میں الگ مؤقف سامنے آ چکا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی کو بھی اختلافی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق پارٹی چاہتی تھی کہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلوں میں صوبائی اسمبلی کے جرگے، سیاسی جماعتوں، مقامی عمائدین اور دیگر متعلقہ فریقوں کی سفارشات کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مجوزہ معاہدے میں مشترکہ اور متفقہ حکمتِ عملی کی بات شامل کرنے کا مطالبہ کیا، مگر ان کے بقول حکومت اس نکتے کو تحریری طور پر شامل کرنے پر تیار نہیں تھی۔

حالیہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تناؤ برقرار ہے اور خیبر پختونخوا کی صورتحال، عمران خان تک پارٹی رہنماؤں کی رسائی اور احتجاجی سیاست اہم اختلافی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ کسی بھی آئندہ بات چیت میں عمران خان کی رائے کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے۔ دوسری جانب حکومت نے بھی حالیہ دنوں میں مذاکرات کے تعطل پر اپنے تحفظات اور الزامات بیان کیے ہیں، اس لیے دونوں فریقوں کے بیانات کو الگ الگ سیاسی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کی جماعت اب بھی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی اہمیت سے انکار نہیں کرتی، لیکن مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایسے طریقۂ کار کی ضرورت ہے جس میں پارٹی کی قیادت سے مشاورت اور سکیورٹی پالیسی پر وسیع تر اتفاقِ رائے کی گنجائش موجود ہو۔ حالیہ تعطل کے بعد فوری طور پر کسی نئے دورِ مذاکرات کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔