اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس 6 سے 8 اکتوبر تک پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے اور اس دوران اقوام متحدہ کے سربراہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق انتونیو گوتریس صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون، کثیرالجہتی نظام، علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
دورے کے پروگرام میں بھارت اور پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ، یو این ایم او جی آئی پی، کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی شامل ہے۔ سیکرٹری جنرل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز بھی جائیں گے جہاں انہیں آفات سے نمٹنے کی تیاری، پیشگی انتباہ اور ہنگامی انتظامات سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان مصروفیات کے ذریعے پاکستان کی کثیرالجہتی سفارت کاری اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں پیش رفت کو اجاگر کیا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان نے بھی دفتر خارجہ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ گوتریس کا دورہ تین روز پر محیط ہوگا اور وہ پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ یو این ایم او جی آئی پی اور این ڈی ایم اے سے متعلق سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعاون اور عالمی اداروں کے ذریعے امن، سلامتی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد کی پالیسی کو نمایاں کرے گا۔
ڈان کے مطابق انتونیو گوتریس کی بطور سیکرٹری جنرل موجودہ مدت 31 دسمبر کو ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے اس عہدے پر پہلی مرتبہ فروری 2020 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ حالیہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی گوتریس سے ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں، جن میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز، انسداد دہشت گردی، انسانی امداد اور موسمیاتی و آفات سے متعلق تعاون کے مختلف شعبوں میں طویل عرصے سے عالمی ادارے کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران کسی نئے معاہدے یا پالیسی اعلان کی حتمی تفصیل متعلقہ ملاقاتوں اور سرکاری بیانات کے بعد سامنے آئے گی۔

