اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ضمانت درخواستوں کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی غیرحاضری اور پولیس کی جانب سے کیس کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ پولیس حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
اے ٹی سی جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ڈی ایس پی لیگل نعیم یوسف سے تفتیشی افسر کے مقام اور اصل ریکارڈ کے بارے میں بار بار استفسار کیا۔ پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں ہے اور اس دعوے کے ثبوت کے طور پر واٹس ایپ پیغام کا پرنٹ پیش کیا، تاہم عدالت نے اصل دستاویز طلب کی اور محض زبانی یا غیر اصل مواد پر انحصار پر اعتراض کیا۔
جج نے متنبہ کیا کہ اگر مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس پی کے خلاف سخت کارروائی، حتیٰ کہ چھ ماہ قید، پر غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ عدالت کی سماعت کے دوران دی گئی تنبیہ تھی؛ دونوں افسران کو اس مرحلے پر ایسی سزا سنائے جانے کی اطلاع نہیں۔ عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس کے سکیورٹی سربراہ کو بھی طلب کیا اور پولیس افسر کی عدالت سے روانگی کو اجازت سے مشروط کیا۔
دفاعی وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ کے علاوہ دیگر دفعات قابل ضمانت ہیں اور تفتیشی افسر کی عدم دستیابی کی بنیاد پر ضمانت کی سماعت میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ وکلا نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ کیس کا ریکارڈ تفتیشی افسر اپنے ساتھ لے گیا۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر کی غیرحاضری کی وجہ سے ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ایک احتجاج سے متعلق مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر سڑک بلاک کرنے، سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات مقدمے کا حصہ ہیں اور ان پر موجودہ ضمانت کارروائی میں حتمی جرم ثابت نہیں ہوا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک الگ مقدمے میں دونوں کی سزائیں معطل کر کے رہائی کا حکم دیا تھا، لیکن بعد میں اسلام آباد پولیس نے انہیں دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا۔ موجودہ اے ٹی سی کارروائی اسی بعد کی گرفتاری سے متعلق ضمانت درخواستوں پر ہے۔ عدالت نے کیس کے میرٹس پر حتمی فیصلہ نہیں دیا اور اگلی سماعت 13 اکتوبر مقرر کی ہے۔

