صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے سے بازیاب کرائے گئے تیل بردار جہاز ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی ملاحوں کی وطن واپسی 7 اکتوبر کو متوقع ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ عمران علی، محمد یاسین اور سید حسین یوسف کو کامیابی سے بازیاب کرا کے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا پہنچا دیا گیا ہے، جہاں پاکستان کے سفارت خانے کی ٹیم ان کے ساتھ موجود ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق تینوں پاکستانیوں کو ادیس ابابا سے پہلی دستیاب ایتھوپین ایئرلائنز پرواز کے ذریعے کراچی روانہ کیا جائے گا اور موجودہ شیڈول کے تحت ان کی آمد بدھ، 7 اکتوبر کو متوقع ہے۔ انہوں نے صومالی حکومت اور یورپی یونین کی بحری فورس آپریشن اٹلانٹا کا عملے کی بازیابی میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بحری قزاقی کے خلاف دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی سمندری راستوں کی سلامتی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
ایم ٹی آنر 25 ایک پالاؤ پرچم بردار آئل ٹینکر ہے جسے اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔ جہاز پر 19 افراد سوار تھے جن میں 10 پاکستانی بھی شامل تھے۔ کئی ماہ تک عملہ یرغمال رہا اور ان کے خاندانوں نے حکومتوں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی میری ٹائم اداروں سے مدد کی اپیلیں کیں۔ عملے کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً ویڈیو اور آڈیو پیغامات میں پانی، خوراک اور ادویات کی قلت کی شکایات سامنے آئیں۔
گزشتہ ہفتے صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کی بحری پولیس نے جہاز کی بازیابی کا اعلان کیا تھا۔ اس کارروائی میں تین پاکستانی ملاحوں، رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری، کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ چار زخمی پاکستانی اتوار کو کراچی پہنچے تھے اور ان کے ساتھ جاں بحق افراد کی میتیں بھی وطن لائی گئی تھیں۔
پنٹ لینڈ حکام کے مطابق جہاز کی بازیابی کے دوران 21 مشتبہ قزاقوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری رہی۔ ایم ٹی آنر 25 کے عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ سات انڈونیشین، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری بھی شامل تھے۔
تینوں باقی پاکستانیوں کی متوقع واپسی اس طویل یرغمالی بحران کے پاکستانی عملے سے متعلق آخری بڑے مرحلے کی تکمیل ہوگی، تاہم ان کی پرواز اور کراچی آمد کا حتمی وقت سفری انتظامات کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔ حکام نے اب تک ان کی طبی حالت سے متعلق کوئی تشویشناک نئی اطلاع جاری نہیں کی۔
