کراچی کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما نے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ادارے میں سڑک حادثات سے زخمی ہونے والے 3 لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد کے کیس رپورٹ ہوئے، جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ مریض مردہ حالت میں لائے گئے۔ یہ اعدادوشمار ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ٹراما آگاہی ہفتہ 2026 اور ورلڈ ٹراما ڈے سے متعلق تقریبات کے اختتامی پروگرام میں پیش کیے گئے۔
انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد صابر میمن کے مطابق ادارے کے ایمرجنسی شعبے میں دس برس کے دوران مجموعی طور پر 14 لاکھ 48 ہزار 624 مریضوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ ان میں 328,841 کیس سڑک ٹریفک حادثات سے متعلق تھے۔ اسی مدت میں 5,045 افراد کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا، جبکہ آتشیں اسلحے سے زخمی ہونے کے 9,634 کیس بھی رپورٹ ہوئے۔
ماہرین نے کہا کہ جدید ٹراما کیئر اور بروقت طبی امداد زخمیوں کی جان بچانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن حادثات کو ہونے سے پہلے روکنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تقریب میں روڈ سیفٹی، ٹریفک قوانین کی پابندی، تیز رفتاری سے گریز، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال نہ کرنے، موٹر سائیکل پر ہیلمٹ اور گاڑی میں سیٹ بیلٹ پہننے کو بنیادی حفاظتی اقدامات قرار دیا گیا۔
ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق مؤثر ٹراما کیئر صرف جدید طبی آلات پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ تیز ایمرجنسی رسپانس، تربیت یافتہ طبی عملہ، مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ، مؤثر انتظامی نظام اور مریض کے بروقت علاج کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے 2016 کے بعد ادارے کی ایمرجنسی خدمات اور مریضوں کی نگہداشت میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔
تقریب کے شرکا نے زور دیا کہ سڑک حادثات میں کمی صرف اسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت، ٹریفک پولیس، ریسکیو سروسز، تعلیمی اداروں، میڈیا اور عام شہریوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق عوامی آگاہی مہمات ایسی اموات اور مستقل معذوریوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جن سے احتیاط کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔
پروگرام میں سرکاری اداروں اور طبی ماہرین کے درمیان تعاون، ایمرجنسی نظام مضبوط بنانے اور ٹراما سے متعلق تربیت بہتر کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر دیویا کیولرامانی نے آن لائن سیشن میں ٹراما سرجری میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال کا جائزہ پیش کیا۔ ادارے کے جاری کردہ اعدادوشمار کراچی میں سڑکوں پر حادثات کے طبی بوجھ کی ایک اہم تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم یہ اعداد صرف اس ایک ٹراما ادارے میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی نمائندگی کرتے ہیں، پورے شہر کے تمام حادثات کی مکمل تعداد نہیں۔

