کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے کارساز روڈ کے 2024 کے مہلک ٹریفک حادثے میں گاڑی چلانے والی نتاشا دانش کو الگ منشیات مقدمے میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف الزام ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ تازہ عدالتی نتیجہ صرف منشیات سے متعلق مقدمے کا ہے اور اسے حادثے میں دو افراد کی ہلاکت سے متعلق سابق مقدمے کے فیصلے سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
یہ مقدمہ 19 اگست 2024 کو کراچی کی کارساز روڈ پر پیش آنے والے حادثے کے بعد درج کیا گیا تھا۔ حادثے میں عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ جاں بحق جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے ابتدا میں واقعے سے متعلق فوجداری مقدمہ درج کیا، بعد ازاں طبی رپورٹ کی بنیاد پر ممنوعہ نشہ آور مادے کے مبینہ استعمال کے الزام میں ایک الگ ایف آئی آر بھی قائم کی گئی۔ منشیات کے مقدمے میں کارروائی ممانعتِ شراب و منشیات سے متعلق قانون کی دفعہ 11 کے تحت کی گئی تھی۔
چار ستمبر کو سماعت کے دوران عدالت نے دستیاب ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق الزام ثابت نہیں کر سکا۔ ملزمہ کے وکیل فواد علی کچھی نے عدالت کے باہر دعویٰ کیا کہ کیمیائی تجزیے اور خون کے ٹیسٹ میں میتھ ایمفیٹامین کے آثار نہیں ملے۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے نمونوں میں مبینہ ردوبدل اور تفتیشی افسر کے ہاتھوں خون کی رپورٹ چھپانے کا الزام بھی لگایا۔ یہ باتیں دفاع کے دعوے ہیں؛ عدالت کے دستیاب فیصلے کی رپورٹنگ میں انہیں الگ سے کوئی ثابت شدہ پولیس بدعنوانی کا عدالتی نتیجہ قرار نہیں دیا گیا۔
مئی 2025 میں اسی عدالت نے نتاشا دانش کی قبل از وقت بریت کی درخواست مسترد کی تھی، جس کے بعد مقدمے کی کارروائی جاری رہی۔ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے انہیں منشیات مقدمے میں ضمانت دی تھی۔ موجودہ فیصلہ مقدمے کی تکمیل پر ہونے والی بریت ہے اور اس کا قانونی مفہوم یہ ہے کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے کے لیے کافی قابل قبول شہادت پیش نہ کر سکا۔ بریت کو کسی ایسے طبی یا انتظامی معاملے پر عمومی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا جو عدالت کے سامنے ثابت شدہ شکل میں زیر غور نہ آیا ہو۔
حادثے میں ہلاکتوں سے متعلق الگ مقدمہ اکتوبر 2024 میں فریقین کے درمیان مصالحتی درخواست منظور ہونے کے بعد ختم ہوا تھا۔ اس لیے تازہ منشیات مقدمے کی بریت نے اس سابق مصالحتی فیصلے کو نہ تبدیل کیا ہے اور نہ دوبارہ کھولا ہے۔ دونوں مقدمات کا قانونی دائرہ، الزام اور اختتام الگ الگ رہے۔
یہ مقدمہ عوامی سطح پر خاص توجہ کا مرکز رہا، مگر عدالتی خبر میں الزام، دفاعی مؤقف اور ثابت شدہ نتیجے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دستیاب عدالتی نتیجہ یہی ہے کہ منشیات کا الزام استغاثہ ثابت نہیں کر پایا اور ملزمہ کو اس مخصوص مقدمے میں بری کر دیا گیا۔




