لاہور: قصور کے قریب پاکستان بھارت بین الاقوامی سرحد پر بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر نے پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے واقعہ رپورٹ کیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے ہوئی، جو لادھر کے علاقے جٹاں والی حویلی کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق تین مقامی افراد ایک سرحدی ستون سے چند قدم آگے بڑھے تھے جب بی ایس ایف اہلکاروں نے مبینہ طور پر بغیر تنبیہ فائرنگ کر دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں افراد غیر مسلح تھے اور انہوں نے بین الاقوامی سرحد یا سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ تیسرے شہری کو فائرنگ میں زخم آئے، تاہم دستیاب رپورٹس میں اس کی حالت یا شناخت کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔
پاکستانی ذرائع نے فائرنگ کو سرحد پر قائم انتظامات اور معیاری طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یہ مؤقف پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا ہے؛ دستیاب رپورٹنگ میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس یا بھارتی حکومت کا تفصیلی جواب شامل نہیں تھا۔ اس لیے واقعے کی متنازع جزئیات کو یک طرفہ دعوے کے بجائے متعلقہ ذرائع سے منسوب کرنا ضروری ہے۔
پاکستان اور بھارت کی بین الاقوامی سرحد اور ورکنگ باؤنڈری کے قریب ماضی میں بھی فائرنگ کے واقعات میں شہری جانی نقصان رپورٹ ہوتا رہا ہے۔ سرحدی آبادیوں کے لیے ایسے واقعات فوری انسانی اور سکیورٹی خدشات پیدا کرتے ہیں، تاہم موجودہ واقعے کے وسیع تر سفارتی یا عسکری اثرات کے بارے میں کسی سرکاری اعلان کے بغیر نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
اس واقعے میں فی الحال قابل تصدیق مرکزی معلومات یہ ہیں کہ پاکستانی ذرائع نے دو شہریوں کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے، جبکہ متاثرین کے غیر مسلح ہونے اور سرحد عبور نہ کرنے کا دعویٰ بھی انہی ذرائع نے کیا ہے۔ کسی مشترکہ تحقیقات، سفارتی احتجاج یا بھارتی حکام کے ردعمل کی مزید تفصیل سامنے آنے پر واقعے کی تصویر زیادہ مکمل ہو سکے گی۔
