کوئٹہ: خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو تقریباً دو ہفتے اغوا کاروں کی تحویل میں رہنے کے بعد بحفاظت رہا ہوگئے ہیں۔ بلوچستان کے صوبائی محکمہ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار اور سومرو کے ایک قریبی خاندانی رکن نے ان کی رہائی کی تصدیق کی۔ حکام کے مطابق مقامی قبائلی عمائدین کی کوششوں اور مسلح افراد کے ساتھ مذاکرات نے رہائی میں اہم کردار ادا کیا۔
منیر احمد سومرو کو 20 ستمبر کو اس وقت اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا تھا جب وہ ایک نجی گاڑی میں کوئٹہ سے خاران جارہے تھے۔ خاران ضلع کے لاجہ علاقے میں مسلح افراد نے گاڑی روکی اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ان کے ایک دوست، ڈرائیور اور ذاتی سکیورٹی گارڈ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
واقعے کے تین روز بعد اغوا کاروں نے ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ کو رہا کردیا تھا، تاہم ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کے لیے تلاش اور رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، جبکہ حکام نے مقامی قبائلی عمائدین سے بھی رابطہ کیا تاکہ اغوا کاروں تک رسائی اور مذاکرات کا راستہ نکالا جاسکے۔
ذرائع کے مطابق انہی مذاکرات کے نتیجے میں سومرو کی رہائی ممکن ہوئی۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ رہائی کے لیے کوئی مالی یا دوسری شرط تسلیم کی گئی یا نہیں، اس لیے ایسی کسی ممکنہ شرط کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے ایک معاون بابر یوسفزئی نے رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے سرکاری ملازمین اور شہریوں کے تحفظ کو حکومت کی ترجیح قرار دیا۔
یہ واقعہ بلوچستان میں انتظامی افسران اور سرکاری اہلکاروں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے، خصوصاً دور دراز علاقوں میں جہاں ریاستی عملداری اور آمدورفت کے تحفظ کو متعدد چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی بحفاظت واپسی فوری طور پر مثبت پیش رفت ہے، جبکہ اغوا میں ملوث افراد کی شناخت اور ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید سرکاری معلومات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
