کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع واشک کے ماشکیل علاقے میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی گورندر، ماشکیل کے علاقے میں آپریشن ردالفتنہ-3 کے تحت کی گئی۔
سرکاری بیان کے مطابق مسلح افراد نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور اس کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی جس میں چھ افراد مارے گئے۔ حکام نے ہلاک ہونے والوں کو فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گرد قرار دیا ہے۔ اس نسبت کی تفصیلی آزادانہ تصدیق یا ہلاک افراد کی شناخت سے متعلق مکمل معلومات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، اس لیے وابستگی کا دعویٰ سرکاری مؤقف کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کو ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں اور عزم استحکام کے وسیع تر فریم ورک سے جوڑا ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ فورسز دہشت گردی کے خطرے کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف علاقوں میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ماشکیل ایران کی سرحد کے قریب واقع وسیع اور کم آبادی والا علاقہ ہے، جہاں جغرافیائی حالات سکیورٹی نگرانی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ تازہ واقعے میں سرکاری رپورٹ نے کسی سکیورٹی اہلکار کے جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا۔
واقعے سے متعلق مزید تفصیلات، ہلاک افراد کی شناخت، برآمد ہونے والے ممکنہ اسلحے یا بعد کی کلیئرنس کارروائی کے بارے میں سرکاری سطح پر اضافی معلومات سامنے آنے کی صورت میں صورت حال مزید واضح ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ بنیادی معلومات یہی ہیں کہ حکام کے مطابق چیک پوسٹ پر فائرنگ کے بعد تعاقب اور جوابی کارروائی میں چھ مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔
