لاہور: ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 56 سرکاری اور نجی جامعات شامل ہوئی ہیں، جبکہ قائداعظم یونیورسٹی 551 سے 600 کے عالمی بینڈ میں جگہ بنا کر پاکستانی اداروں میں سب سے بلند مقام پر رہی۔ نئی درجہ بندی 30 ستمبر کو جاری کی گئی اور اس میں دنیا کے 118 ممالک اور خطوں کے 2,297 اداروں کو باقاعدہ رینک کیا گیا ہے۔
پاکستانی جامعات میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) 601 سے 650 کے بینڈ میں رہی، جبکہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کو 651 سے 700 کے بینڈ میں رکھا گیا۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور یونیورسٹی آف لاہور 701 سے 800 کے بینڈ میں شامل ہوئیں۔
متعدد پاکستانی ادارے 801 سے 1000 کے بینڈ میں بھی شامل ہیں۔ ان میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، ایئر یونیورسٹی، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ، گومل یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، اقراء یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، پنجاب یونیورسٹی اور دیگر ادارے شامل ہیں۔
ٹائمز ہائر ایجوکیشن تحقیق پر مبنی جامعات کا جائزہ تدریس، تحقیق، علمی اثر، صنعت سے علم کی منتقلی اور بین الاقوامی ماحول سمیت بنیادی شعبوں میں 17 کارکردگی اشاریوں کے ذریعے لیتا ہے۔ 2027 کی فہرست کو ادارے نے اب تک کی اپنی سب سے وسیع درجہ بندی قرار دیا ہے اور اس مرتبہ زیادہ تفصیلی رینکنگ بینڈ متعارف کرائے گئے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے مطابق گزشتہ ایڈیشن میں 48 پاکستانی جامعات رینک ہوئی تھیں جبکہ 2027 میں یہ تعداد بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے تحقیق کے معیار میں مزید بہتری پر زور دیا۔ پاکستانی اداروں کی تعداد میں اضافہ عالمی موجودگی کے لحاظ سے حوصلہ افزا ہے، تاہم بلند ترین عالمی بینڈز تک رسائی کے لیے تحقیقی معیار، بین الاقوامی تعاون اور ادارہ جاتی وسائل میں مسلسل بہتری بنیادی چیلنج رہیں گے۔
