اسلام آباد: پاکستان نے بیدیاں سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر بھارت سے باضابطہ اور سخت احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور جمعہ کو پیش آنے والے واقعے پر پاکستان کا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں نے غیر مسلح شہریوں کے خلاف بلااشتعال مہلک طاقت استعمال کی، جس کے نتیجے میں دو جانیں ضائع ہوئیں۔ پاکستانی حکام نے اس کارروائی کو غیر ضروری اور غیر متناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے تناظر میں واقعہ سنگین تشویش کا باعث ہے۔

پاکستان نے بھارتی جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کو مبینہ طور پر درانداز قرار دینے کی کوشش کو بھی مسترد کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ مرنے والے شہری تھے اور ان کے بارے میں کسی مختلف نوعیت کی تشریح قابل قبول نہیں۔ یہ مؤقف پاکستانی حکام کا سرکاری بیان ہے؛ واقعے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کی کوئی تفصیل فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔

اسلام آباد نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور قابل اعتبار تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار پائے جانے والے افراد کے خلاف مناسب تادیبی اور قانونی کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج اور اٹھائے گئے اقدامات سے حکومت پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق معاملات پہلے ہی حساس نوعیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر احتجاج کا مقصد واقعے کو سرکاری ریکارڈ پر لانا اور بھارتی حکام سے جواب دہی کا مطالبہ کرنا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار بھارتی جواب، ممکنہ تحقیقات اور دونوں ملکوں کے سفارتی رابطوں پر ہوگا۔