کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر، جنہیں گزشتہ ماہ مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا، بحفاظت رہا ہو کر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے ڈپٹی کمشنر کی محفوظ رہائی کی تصدیق کی، جبکہ ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے بھی بتایا کہ وہ واپس پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر کو 20 ستمبر کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ایک نجی گاڑی میں کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے۔ خاران ضلع کے لجا علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی روک کر ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ان کے ایک دوست، ڈرائیور اور ذاتی سکیورٹی گارڈ کو بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ واقعے کے بعد صوبائی حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی سطح پر بااثر افراد کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری تھیں۔
تازہ پیش رفت میں حکام نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کو قبائلی عمائدین کی مداخلت اور کوششوں کے بعد رہا کیا گیا۔ دستیاب معلومات میں اغوا کاروں کی شناخت، رہائی کے لیے طے پانے والی کسی شرط یا ممکنہ تاوان کی ادائیگی کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے ایسے کسی معاملے کو حتمی حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ڈپٹی کمشنر کی رہائی بلوچستان میں سرکاری اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق ایک اہم واقعے کا اختتام ہے، تاہم اغوا کے ذمہ دار افراد اور واقعے کے محرکات سے متعلق تحقیقات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ حکام کی جانب سے یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اس کیس میں کوئی گرفتاری ہوئی ہے یا نہیں۔
خاران بلوچستان کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں بھی سکیورٹی واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ موجودہ واقعے میں بنیادی طور پر سرکاری طور پر تصدیق شدہ پیش رفت ڈپٹی کمشنر کی محفوظ رہائی ہے۔ مزید ذمہ داری یا پس منظر سے متعلق کسی بھی دعوے کے لیے متعلقہ حکام کی تفتیش یا باضابطہ بیان درکار ہوگا۔
