اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی مکہ دفاعی معاہدہ اس صورت میں عملی طور پر فعال ہو سکتا ہے اگر یمن میں جاری تنازع کی جارحیت سعودی عرب تک پھیلتی ہے۔ ان کا بیان سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں سعودی حکام کے مطابق تیل تنصیبات سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی نوعیت مشترکہ دفاع کی ہے اور اس میں ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تمام اراکین کیلئے دفاعی ذمہ داری سے جوڑا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر یمن کی صورتحال کا پھیلاؤ سعودی عرب کے خلاف بلااشتعال جارحیت کی شکل اختیار کرتا ہے تو معاہدے کے فعال ہونے میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر ان پر عمل کرے گا۔

وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ آیا حالیہ حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی مخصوص رابطے کا علم نہیں، تاہم پاکستان مشترکہ دفاعی انتظام کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو جارحانہ اتحاد قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد رکن ممالک کو بیرونی جارحیت کی صورت میں اجتماعی دفاع فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے یہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو کیا تھا۔ اس کا اعلان ایسے علاقائی ماحول میں ہوا تھا جہاں مشرق وسطیٰ میں جنگ، بحری راستوں کی سکیورٹی اور توانائی تنصیبات پر حملوں کے خدشات بڑھ رہے تھے۔ حالیہ حوثی حملوں کے بعد یہ سوال دوبارہ نمایاں ہوا ہے کہ معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق کس صورتحال میں عملی طور پر استعمال ہوگی۔

خواجہ آصف کا بیان ایک حکومتی پالیسی مؤقف اور معاہدے کی ان کی تشریح ہے؛ اسے خود بخود فوجی کارروائی کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ دستیاب معلومات میں پاکستان کی جانب سے کسی نئی فوجی تعیناتی یا آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح مستقبل میں معاہدہ کس عملی طریقہ کار کے تحت فعال ہوگا، اس کا انحصار حالات، رکن ممالک کے باہمی مشورے اور متعلقہ سرکاری فیصلوں پر ہوگا۔