اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس صورت میں فعال ہو سکتا ہے جب یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیل جائے یا رکن ملک کے خلاف جارحیت کی صورت پیدا ہو۔ ان کے مطابق معاہدے کی بنیادی شق یہ ہے کہ ایک رکن کے خلاف حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے گا۔
بزنس ریکارڈر اور ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق خواجہ آصف نے یہ بات سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں کہی۔ ڈان کے مطابق ایک روز قبل یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔ سعودی عرب نے بعد میں یمن کے مختلف علاقوں میں جوابی حملے کیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ معاہدے میں اس بارے میں ابہام نہیں کہ کسی ایک فریق کے خلاف بلااشتعال جارحیت یا تنازع کا سعودی سرزمین تک پھیلاؤ مشترکہ دفاعی ذمہ داری کو متحرک کر سکتا ہے۔ تاہم ان کا بیان کسی فوری پاکستانی فوجی کارروائی کے اعلان کے مترادف نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی مخصوص رابطے کی ذاتی طور پر اطلاع نہیں، جبکہ امید ظاہر کی کہ صورتحال قابو میں آ جائے گی۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے طے کیا تھا۔ معاہدے کا اعلان اجتماعی دفاع اور بازدارندگی مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا گیا اور اس میں کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام اراکین پر حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ دفاعی بندوبست ہے۔
وزیر دفاع نے حوثیوں کو غیر ریاستی فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی تنازعات کو دوسرے ملکوں تک پھیلانے سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا ذکر کرتے ہوئے یہ رائے بھی دی کہ مذاکرات کے تمام دروازے بند نہیں ہوئے اور بالواسطہ رابطوں کی گنجائش موجود ہے۔ یہ ان کا سیاسی و سفارتی جائزہ ہے، کسی نئے مذاکراتی سمجھوتے کی سرکاری تصدیق نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی سعودی عرب میں حملوں کی مذمت اور مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔ موجودہ پیش رفت میں اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستانی وزیر دفاع نے پہلی بار حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں مکہ دفاعی معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق کے ممکنہ اطلاق کو واضح طور پر بیان کیا ہے، تاہم کسی عملی اقدام کا فیصلہ حالات اور معاہدے کے باضابطہ طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔




