وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ انتظام صوبے میں جاری ایمرجنسی اور گورنر راج کے دوران مقامی نمائندگی اور ترقیاتی امور کے لیے وضع کیے گئے انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق کونسل کے ارکان کی نامزدگی کے عمل میں مقامی جرگوں کے ساتھ مشاورت کی گئی۔ نئے انتظام کا تعلق ان 12 اضلاع سے ہے جن کے لیے ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ کا فریم ورک سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد متعلقہ علاقوں میں مقامی سطح کی ضروریات، نمائندگی اور ترقیاتی ترجیحات کو انتظامی نظام سے جوڑنا بتایا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ آئینی و انتظامی صورتحال اس فیصلے کا اہم پس منظر ہے۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی صوبائی انتظامیہ معطل ہوئی اور انتظامی اختیار گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوا۔ 15 اکتوبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے صدارتی اعلانات کی توثیق کے لیے الگ الگ قراردادیں منظور کیں۔
نئی 48 رکنی کونسل کی تشکیل اسی عبوری انتظامی بندوبست کے اندر ہوئی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اسے منتخب صوبائی حکومت کے مستقل متبادل کے طور پر بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اس کے کردار کو اسی نوٹیفائی شدہ دائرہ کار تک محدود سمجھنا ضروری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا میں سلامتی، انتظامی اختیارات اور سیاسی نمائندگی پر شدید بحث جاری ہے۔ کونسل کے عملی اختیارات، ترقیاتی ترجیحات اور مقامی منصوبوں پر اثر کا مکمل اندازہ اس کے کام شروع ہونے اور متعلقہ سرکاری احکامات کے نفاذ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
