اسلام آباد: سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دو الگ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 18 دہشت گرد مارے گئے۔ ڈان کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سرکاری بیان میں ان افراد کے لیے ریاست کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک الگ کارروائی کے بارے میں سرکاری میڈیا نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی کے بعد بھاری اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جبکہ علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری تھا۔ حکام نے بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کے لیے سرکاری اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ان پر بیرونی پشت پناہی کے الزامات دہرائے ہیں؛ ایسی نسبت کو پاکستانی حکام کا مؤقف سمجھا جانا چاہیے اور اسے آزادانہ عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق صدر نے کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کا اظہار قرار دیا، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ ڈان نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا، ضم اضلاع کے بغیر، اگست میں 54 دہشت گرد حملوں کا سامنا کر چکا تھا، جو جولائی کے 36 واقعات سے زیادہ تھے۔ بلوچستان میں بھی سلامتی کی صورتحال مسلسل تشویش کا باعث رہی ہے۔

موجودہ کارروائیوں کے بارے میں بنیادی معلومات سرکاری میڈیا اور سکیورٹی ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ ہلاک افراد کی شناخت، ان کے مخصوص کردار اور تمام آپریشنل تفصیلات فوری طور پر آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکیں۔ اس لیے ہلاکتوں اور وابستگی سے متعلق اعداد و دعوے اسی سرکاری نسبت کے ساتھ رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔