پشاور میں دو نوعمر چائلڈ رائٹس کارکنوں نے پشاور ہائیکورٹ میں مشترکہ آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار ماہم نفیس اور لینا قمر نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کی اس شق کو چیلنج کیا ہے جو صوبے میں لڑکیوں کے لیے 16 اور لڑکوں کے لیے 18 سال کی مختلف حد مقرر کرتی ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ جنس کی بنیاد پر عمر کی مختلف حد آئین کے تحت مساوات، وقار اور شخصی تحفظ سے متعلق ضمانتوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ شق کو اس حد تک غیر آئینی اور امتیازی قرار دیا جائے جہاں وہ لڑکے اور لڑکی کے لیے مختلف عمر مقرر کرتی ہے۔ یہ دعویٰ درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہے اور اس پر عدالت کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
درخواست میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مجوزہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کو قانون سازی کے عمل میں آگے بڑھایا جائے۔ درخواست گزاروں کے مطابق صوبائی سطح پر تیار کیے گئے مسودے میں بچے کی تعریف 18 سال سے کم عمر فرد کے طور پر کی گئی ہے، تاہم اسے ابھی صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔
درخواست میں اس فرق کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جا چکی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے عمومی قانون میں لڑکیوں کے لیے 16 سال کی حد برقرار ہے۔ درخواست گزاروں نے صوبے کے دیگر قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ بچوں کے تحفظ کے قانونی فریم ورک میں 18 سال کی عمر کو اہم حد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
درخواست میں کم عمری کی شادی کے تعلیم، صحت اور سماجی ترقی پر اثرات سے متعلق اعدادوشمار اور بچوں کے حقوق کے اداروں کی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ عدالت میں دائر درخواست بذات خود کسی شق کو منسوخ نہیں کرتی؛ موجودہ قانونی پوزیشن اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک عدالت یا مقننہ اس میں تبدیلی نہ کرے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت میں سرکاری فریقوں کا جواب اور عدالت کا قانونی جائزہ اس معاملے کی سمت متعین کرے گا۔
