پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے کے چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام کو سکیورٹی اجلاس میں بلانے کے اقدام کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وزیراعلیٰ کا مؤقف ہے؛ معاملے پر کسی عدالت یا آئینی فورم نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت، صوبائی اسمبلی اور کابینہ فعال ہیں اور وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ عدم اعتماد کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گورنر کے اقدام پر قانونی رائے حاصل کرے گی اور ان کے بقول جمہوری نظام کے خلاف غیر آئینی اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
ایک روز قبل گورنر فیصل کریم کنڈی نے سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، آئی جی ذوالفقار حمید اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ گورنر نے دہشت گردی، جرائم اور امن و امان کے چیلنجز کے تناظر میں کہا تھا کہ صوبہ غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا اور عوام کی حفاظت صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری رہنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی سکیورٹی پالیسی پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمت عملی سے پائیدار امن حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور اسپیشل برانچ کی صلاحیت بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے صوبے کے واجبات، نیشنل فنانس کمیشن میں حصے اور قبائلی اضلاع کے مالی حقوق کی ادائیگی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
آفریدی نے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو ہدایت کی کہ وہ کسی ایسے حکم پر عمل نہ کریں جسے وہ غیر آئینی یا غیر قانونی سمجھتے ہوں، اور پولیس اہلکاروں کے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی شکایات کی تحقیقات کا حکم بھی دیا۔ موجودہ تنازع انتظامی اختیار اور آئینی حدود سے متعلق سیاسی و قانونی اختلاف ہے، جس کی حتمی نوعیت قانونی رائے یا ممکنہ عدالتی تشریح کے بعد زیادہ واضح ہوگی۔

