پشاور: خیبر پختونخوا میں اکتوبر کے دوران ڈینگی بخار کے کیسز میں اضافہ جاری ہے اور صوبائی سطح پر رواں سال رپورٹ ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 4,856 تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے بیماری نگرانی نظام کی تازہ رپورٹ کے مطابق اتوار کو مزید 51 کیسز سامنے آئے، جبکہ صرف اکتوبر میں اب تک 2,244 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ڈان کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا کے انٹیگریٹڈ ڈیزیزز سرویلنس اینڈ ریسپانس سسٹم کی رپورٹ میں کوہاٹ کو سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قرار دیا گیا ہے، جہاں مجموعی طور پر 2,822 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ پشاور میں 611، خیبر میں 430، بنوں میں 192، ہری پور میں 133، ایبٹ آباد میں 89، چارسدہ میں 88، مانسہرہ میں 68 اور کرک میں 57 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

کوہاٹ میں صرف اکتوبر کے دوران 1,230 ڈینگی کیسز سامنے آئے، جس کے باعث ضلع صحت حکام اور انسداد ڈینگی ٹیموں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خیبر میں رواں ماہ 329 کیسز رپورٹ ہوئے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق اس وقت صوبے میں 199 فعال کیسز ہیں، تاہم ان میں سے کوئی مریض ہسپتال میں داخل نہیں۔ ایک مریض، جس کا تعلق ٹانک سے تھا، ڈیرہ اسماعیل خان میں بیماری کے باعث انتقال کر گیا، جبکہ 4,656 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر روایتی طور پر ڈینگی کے پھیلاؤ کا اہم مہینہ ہوتا ہے۔ درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ نومبر میں مچھروں کی افزائش کے حالات نسبتاً ناموافق ہونے پر کیسز کم ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ رواں سال کوہاٹ ایک بڑے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر سامنے آیا ہے، جبکہ گزشتہ برس چارسدہ میں ایک ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

صحت حکام نے بتایا کہ کوہاٹ میں بعض سابق افغان مہاجر کیمپوں کے منہدم ہونے کے بعد زمین ہموار کرنے اور پانی جمع ہونے والے گڑھوں کو بھرنے کی سفارش پہلے ہی کی گئی تھی تاکہ مچھروں کی افزائش کے مقامات ختم کیے جا سکیں۔ رپورٹ کے مطابق تجویز کردہ اقدامات مکمل طور پر نافذ نہ ہونے کے بعد شناخت شدہ علاقوں کے گرد کیسز سامنے آتے رہے۔

ماہرین نے ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ماحولیاتی انتظام کو ترجیح دینے، کھلے برتنوں، ایئر کولرز اور گملوں میں پانی جمع نہ ہونے دینے اور عوامی آگاہی بڑھانے پر زور دیا ہے۔ حکام نے یہ بھی متنبہ کیا کہ کیڑے مار ادویات یا اسپرے کا غیر ضروری اور ضرورت سے زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ صوبائی اعداد و شمار سرکاری نگرانی نظام پر مبنی ہیں اور وبا کی آئندہ سمت موسم اور مقامی حفاظتی اقدامات کی مؤثریت سے وابستہ رہے گی۔