اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے اتوار 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کی منظوری دے دی، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت معطل ہو گئی اور صوبائی امور گورنر کی نگرانی میں چلانے کا انتظام کیا گیا۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی سفارش کے بعد سامنے آیا، جس میں صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے دانستہ لاتعلقی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے، جسے صوبائی حکمران جماعت تسلیم نہیں کرتی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مرکز اور صوبے کے درمیان فیصلہ سازی اور رابطے میں تاخیر نے سکیورٹی مسائل کو بڑھایا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صوبے میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافے کے اعداد و شمار پیش کیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ گورنر کے تحت صوبائی امور چلانے کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل قائم کی جا رہی ہے۔ ان اعلانات سے صوبائی انتظامیہ، سیاسی نمائندگی اور انتظامی فیصلوں کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے فیصلے کو عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا۔ عمران خان کے ترجمان ذلفی بخاری نے اسے جمہوری اختیار ختم کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا۔ تحریک انصاف کے مطابق صوبائی حکومت کو 2024 کے انتخابات میں عوامی حمایت حاصل ہوئی تھی اور مرکز کے ساتھ حالیہ مذاکرات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر فوری اقدامات ناگزیر تھے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر احتجاجی مارچ کی تیاریاں جاری تھیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بعض کارکنوں کی گرفتاریوں اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹوں کے باعث سیاسی کشیدگی بڑھی، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی۔ تحریک انصاف نے اپنے بعض رہنماؤں کی حراست کا دعویٰ کیا ہے؛ ان دعوؤں کی تفصیلات متعلقہ حکام کے مؤقف سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا میں یہ فیصلہ آئینی اختیارات، صوبائی خودمختاری اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے تناظر میں اہم ہے۔ فی الحال واضح اور تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ صدر نے وفاقی کابینہ کی سفارش منظور کی اور صوبائی حکومت معطل کر دی گئی۔ سیاسی فریقوں کے متضاد دعوے اور فیصلے کے ممکنہ قانونی نتائج آئندہ کارروائیوں اور سرکاری دستاویزات سے مزید واضح ہوں گے۔