اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار 11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور وفاقی حکومت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی پر گفتگو کی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو معیشت غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اجلاس ایسے وقت ہوا جب صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھنے کی خبریں سامنے آرہی تھیں۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ حالیہ اسٹاف سطح کے معاہدے کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ پاکستان کو رواں سال کے اندر تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی قسط مل سکے گی۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ یہ وزیراعظم کی بیان کردہ توقع ہے؛ متوقع رقم کی وصولی کو حتمی ادائیگی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کابینہ اجلاس کے سیاسی پس منظر میں تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کی احتجاجی سرگرمیاں اور وفاقی حکام کے بیانات شامل ہیں۔ تاہم کسی سیاسی جماعت کے احتجاج اور معیشت کے درمیان براہ راست نتائج کا تعین الگ معاشی شواہد کا تقاضا کرتا ہے۔ وزیراعظم کا بیان وفاقی حکومت کے مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے اور اسے کسی عدالتی فیصلے یا غیر جانبدارانہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جارہا۔
خیبر پختونخوا میں ممکنہ انتظامی اقدامات کے بارے میں سیاسی سطح پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں، لیکن اس رپورٹ کے لیے زیرِ حوالہ خبر میں کسی مخصوص آئینی اقدام کے نافذ ہوجانے کی تصدیق نہیں ملتی۔ اسی لیے اجلاس کے انعقاد اور وزیراعظم کے بیان کو کسی گورنر راج یا ہنگامی حالت کے باضابطہ نفاذ سے الگ رکھا گیا ہے۔ ایسی کسی تبدیلی کے لیے متعلقہ آئینی طریقہ کار اور سرکاری اعلامیے کی جانچ ضروری ہوگی۔
حکومت کے لیے موجودہ صورتحال میں دو الگ چیلنج نمایاں ہیں: سیاسی اختلافات کو قانونی و آئینی دائرے میں سنبھالنا اور معاشی پالیسی میں تسلسل برقرار رکھنا۔ وزیراعظم نے اجلاس میں معاشی استحکام کے اپنے عزم کا اظہار کیا، تاہم آئی ایم ایف کی آئندہ قسط اور سیاسی کشیدگی کے نتائج سے متعلق پیش رفت مزید سرکاری فیصلوں اور متعلقہ اداروں کی تصدیق کے بعد ہی واضح ہوگی۔
