اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں افغانستان کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک گروہ کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کا شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فوجی بیان کے مطابق اس کارروائی میں 12 افراد ہلاک ہوئے جنہیں بیان میں خوارج اور افغان طالبان سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔ اس دوران پاکستانی فوج کے نائب صوبیدار ہدایت امان بھی جان سے گئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان نے 11 اکتوبر کو آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا کہ سرحد کے قریب مشتبہ گروہ کی نقل و حرکت ایک روز پہلے دیکھی گئی تھی۔ فوج کے مطابق تعینات اہلکاروں نے اس نقل و حرکت پر کارروائی کی اور سرحد پار کرنے کی کوشش روک دی۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مقابلے کے دوران افغانستان کی جانب واقع طالبان چوکیوں سے فائرنگ کی گئی، جسے پاکستانی حکام نے دراندازی کی کوشش کرنے والے افراد کی مدد قرار دیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں مزید ممکنہ مسلح افراد کی موجودگی کا جائزہ لینے کے لیے کلیئرنس کارروائی جاری ہے۔ بیان میں افغانستان کی طالبان انتظامیہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف مسلح سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔ یہ الزامات پاکستانی فوج کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں؛ دستیاب سرکاری خبر میں افغان حکام کا جواب شامل نہیں تھا۔
فوج نے اس واقعے کو سرحدی نگرانی اور انسداد دہشت گردی کے جاری اقدامات کے تناظر میں پیش کیا اور کہا کہ سیکیورٹی فورسز سرحدوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت، ان کی وابستگی اور مقابلے کی تفصیلات کے بارے میں آزادانہ تصدیق اس رپورٹ کے لیے دستیاب نہیں۔ اس لیے ہلاکتوں کی تعداد اور مقابلے کے حالات کو آئی ایس پی آر سے منسوب کیا جارہا ہے۔ نائب صوبیدار ہدایت امان کی ہلاکت کا ذکر بھی اسی سرکاری بیان میں کیا گیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر اس نوعیت کے واقعات دوطرفہ سلامتی کے تعلقات کے لیے اہم ہیں۔ تاہم موجودہ واقعے کے بارے میں مزید نتائج اخذ کرنے کے بجائے سرکاری تحقیقات، فریقین کے ممکنہ بیانات اور علاقے کی صورتحال سے متعلق آئندہ مصدقہ معلومات کا انتظار ضروری ہوگا۔

