لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، یعنی لمز، کے کنٹونمنٹ پراپرٹی ٹیکس سے متعلق اہم تنازع میں فیصلہ دیتے ہوئے سن دو ہزار تئیس کی قانونی ترمیم سے پہلے کی مدت کے ٹیکس مطالبات غیر مؤثر قرار دیے ہیں۔ جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل بینچ نے یونیورسٹی اور اس کے تحت کام کرنے والی غیرمنافع بخش نیشنل مینجمنٹ فاؤنڈیشن کی درخواست منظور کی۔
تنازع کنٹونمنٹس ایکٹ انیس سو چوبیس کی دفعہ ننانوے کی اس شق کی تشریح سے متعلق تھا جو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی عمارتوں کو ٹیکس سے استثنیٰ فراہم کرتی تھی۔ کنٹونمنٹ بورڈ نے یونیورسٹی کی عمارتوں پر دو ہزار سات میں پہلی بار پراپرٹی ٹیکس کا مطالبہ کیا تھا، جسے ادارے نے چیلنج کیا۔ اس کے بعد دو ہزار گیارہ میں قانونی اپیل اور دو ہزار سترہ میں نظرثانی کی درخواست مسترد ہوئی تھیں۔
یونیورسٹی کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سن دو ہزار تئیس سے پہلے کے قانون میں تعلیمی عمارتوں کے لیے استثنیٰ کی شرائط کو ایسے نہیں پڑھا جا سکتا جیسے بعد کی ترمیم کے تحت شرائط نافذ ہوئی ہوں۔ دوسری جانب سرکاری محکمے کے وکیل نے دلیل دی کہ یونیورسٹی کو فیسوں، سرمایہ کاری اور بعض عمارتوں کے استعمال سے آمدن ہوتی ہے، اس لیے ٹیکس میں چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔
فیصلہ تحریر کرنے والے جسٹس خالد اسحاق کے مطابق دو ہزار تئیس کی ترمیم نے قانونی صورت حال میں حقیقی تبدیلی کی، جسے سابقہ مدت کے لیے پیچھے سے نافذ نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف تعلیمی فیس وصول کرنا یا بچت رکھنا خود بخود تجارتی منافع خوری کا ثبوت نہیں، بشرطیکہ رقم ادارے کے منتظمین یا ٹرسٹیوں میں تقسیم نہ ہوتی ہو۔
عدالت نے دو ہزار گیارہ اور دو ہزار سترہ کے ٹیکس احکامات کو کالعدم قرار دیا اور کہا کہ ترمیم سے پہلے کی مدت کے لیے ایسے مطالبات کی وصولی نہیں کی جا سکتی۔ البتہ عدالت نے سن دو ہزار تئیس کے بعد کی تمام مدت کے لیے مستقل اور غیرمشروط چھوٹ کا اعلان نہیں کیا۔ فیصلے کے مطابق آئندہ کسی بھی جانچ میں متعلقہ عمارت کے اصل استعمال، آمدن اور عوامی رسائی کی نوعیت کو دیکھ کر باقاعدہ وجوہات پر مبنی حکم جاری کرنا ہوگا۔ اس تفریق کے باعث عدالتی فیصلے کو مستقبل کے تمام ممکنہ ٹیکس مطالبات کے خاتمے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

