خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن نے صوبے کی پہلی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ دی نیشن کے مطابق کمیشن کا 33 واں اجلاس وزیراعلیٰ کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور خواتین کی بااختیاری ملک لیاقت علی خان کی صدارت میں ہوا، جس میں بچوں کے تحفظ، حقوق اور فلاح سے متعلق پالیسی کے مختلف پہلو زیر بحث آئے۔

پالیسی کا دائرہ یتیم اور بے سہارا بچوں، معذوری کے ساتھ رہنے والے بچوں، بے گھر اور سڑک سے وابستہ بچوں اور مناسب والدین کی نگہداشت سے محروم بچوں تک پھیلا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میں بدسلوکی، جسمانی اور نفسیاتی تشدد، غفلت، استحصال، چائلڈ لیبر، بھیک منگوانے، جنسی استحصال، کم عمری کی شادی اور دوسرے خطرات کی روک تھام، جلد شناخت، رپورٹنگ، تحفظ، بحالی اور نگرانی کے طریقے شامل ہوں گے۔

منظور شدہ فریم ورک بچوں کی شناخت اور رجسٹریشن، کیس کا جائزہ، انفرادی تحفظ منصوبہ، متعلقہ ادارے کو ریفرل اور بعد ازاں فالو اپ نگرانی کا نظام فراہم کرے گا۔ صوبائی، ضلعی اور کمیونٹی سطح پر اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کی بات بھی کی گئی ہے، تاکہ ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک ذمہ داری منتقل ہونے کے دوران بچے کا کیس نظرانداز نہ ہو۔

متبادل نگہداشت کے معاملے میں بچے کے بہترین مفاد، ضرورت اور موزونیت کو بنیادی اہمیت دینے کی ہدایت ہے۔ خاندانی بنیاد پر نگہداشت کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ ادارہ جاتی نگہداشت کو آخری حل سمجھا جائے گا۔ اداروں کے لیے خوراک، صفائی، صحت، تعلیم، ذہنی صحت کی مدد، پیشہ ورانہ تربیت اور شکایت کے ازالے کے کم از کم معیار بھی پالیسی کا حصہ ہوں گے۔

سرپرستی کے لیے ممکنہ نگہبان کی جانچ، گھر کے ماحول کا جائزہ، بچے کی ضرورت کے مطابق انتخاب، عدالتی نگرانی اور سرپرستی کے بعد مسلسل مانیٹرنگ کے طریقے شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں بچوں کے حقوق، محفوظ ماحول اور ڈیجیٹل سیفٹی کے بارے میں آگاہی بڑھانے اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی صلاحیت بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

پالیسی کی منظوری اہم انتظامی مرحلہ ہے، مگر اس کی کامیابی قواعد، بجٹ، تربیت، ضلعی نفاذ، رپورٹنگ چینل اور قابلِ پیمائش نگرانی سے طے ہوگی۔ دستیاب رپورٹ میں عملی نفاذ کی تاریخ یا مختص بجٹ نہیں بتایا گیا۔ آئندہ قابلِ تصدیق پیش رفت باضابطہ نوٹیفکیشن، نفاذی منصوبے اور ضلعی سطح کی سرگرمیوں سے سامنے آئے گی۔