پاکستان اور دولت مشترکہ نے نوجوانوں کی ترقی، موسمیاتی لچک اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں روابط بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایکسپریس اردو نے دفتر خارجہ کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن کے مارلبورو ہاؤس میں دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی بوچوی سے ملاقات کی۔ دونوں جانب سے رکن ممالک کے درمیان عملی تعاون کو مزید منظم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے دولت مشترکہ کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا اور نوجوانوں، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور اقتصادی ترقی میں مشترکہ اقدامات کی حمایت کی۔ انہوں نے رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے بینکاری شعبے میں ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ رپورٹ میں کسی نئے مالی پیکیج، تجارتی ہدف یا پابند معاہدے کی رقم بیان نہیں کی گئی۔

ملاقات میں پاکستان کی جانب سے دولت مشترکہ کے ڈیزاسٹر ریزیلینس ہب کی میزبانی اسلام آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت کرنے کی پیش کش بھی دہرائی گئی۔ سیکریٹری جنرل نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور آفات سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کی استعداد بڑھانے میں تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔ ہب کی حتمی منظوری، عملی ڈھانچے یا آغاز کی تاریخ کی تفصیل رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

دونوں عہدیداروں نے دولت مشترکہ کی نوجوانوں سے متعلق سرگرمیوں میں اضافہ اور یوتھ منسٹرز میٹنگ کی پاکستانی مشترکہ صدارت کے تحت نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی بات کی۔ اس حصے کا مقصد تربیت، شرکت اور رکن ملکوں کے تجربات کا تبادلہ بڑھانا بتایا گیا، تاہم کسی مخصوص پروگرام کے نام، بجٹ یا مستفید افراد کی تعداد کا اعلان نہیں ہوا۔

اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان امن کے لیے پاکستان کے کردار سے بھی سیکریٹری جنرل کو آگاہ کیا۔ شرلی بوچوی سے منسوب پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف ایک سیاسی و سفارتی مؤقف ہے؛ اسے کسی آزاد حتمی نتیجے یا باضابطہ ثالثی معاہدے کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس ملاقات کی قابلِ تصدیق پیش رفت دفتر خارجہ کا جاری کردہ بیان اور تعاون کے بیان کردہ شعبے ہیں، جبکہ آئندہ عملی نتائج متعلقہ پروگراموں اور مشترکہ فیصلوں سے واضح ہوں گے۔