گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تازہ فارغ التحصیل نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مہارت، عملی تربیت اور روزگار کے مواقع سے جوڑیں۔ دی نیشن کے مطابق انہوں نے یہ بات گورنر ہاؤس میں پاکستان یوتھ وژن پارلیمنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس کی قیادت تنظیم کے چیئرمین حافظ حذیفہ شاہ کر رہے تھے۔
وفد نے صوبے کے مختلف اضلاع میں نوجوانوں اور فارغ التحصیل افراد کو درپیش مسائل سے متعلق سروے رپورٹ پیش کی۔ بریفنگ میں ملازمت کے حصول میں مشکلات، استاد اور طالب علم کے تعلقات، سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ اور نوجوان نسل کو متاثر کرنے والے دوسرے معاملات شامل تھے۔ رپورٹ کے مکمل نمونے، طریقۂ کار یا اعداد دستیاب خبر میں نہیں دیے گئے۔
گورنر نے کہا کہ جامعات کا کردار صرف ڈگری جاری کرنا نہیں بلکہ طلبہ کو جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے لیے تیار کرنا بھی ہے۔ ان کے مطابق حکومت، تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کے نمائندہ پلیٹ فارم کو مل کر نوجوان صلاحیت کو تعمیری سمت دینی چاہیے۔ انہوں نے بہتر تعلیمی ماحول کے لیے استاد اور طالب علم کے درمیان مثبت اور اعتماد پر مبنی تعلق کو بھی ضروری قرار دیا۔
سوشل میڈیا کے بارے میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جھوٹی اور غیر مصدقہ معلومات نوجوان ذہنوں اور معاشرے پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں میں میڈیا لٹریسی، ڈیجیٹل آگاہی اور معلومات کی تصدیق کی عادت بڑھانے پر زور دیا۔ یہ سفارش خاص طور پر اس ماحول میں اہم ہے جہاں تیز رفتار آن لائن مواد اور غیر واضح ذرائع کے باعث غلط دعوے وسیع پیمانے پر پھیل سکتے ہیں۔
گورنر نے صوبے کے صحت کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے بغیر نقد کاؤنٹر مفت علاج کے ماڈل کو قابلِ غور مثال قرار دیا۔ یہ ان کا پالیسی مؤقف ہے؛ خیبر پختونخوا میں اسی ماڈل کے نفاذ، بجٹ یا وقت کی کوئی باضابطہ منظوری خبر میں نہیں دی گئی۔
انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ نوجوانوں، روزگار، تعلیم اور سماجی مسائل سے متعلق سفارشات مناسب فورمز تک پہنچائی جائیں گی۔ اس ملاقات کا فوری نتیجہ سفارشات سننا اور انہیں آگے بھیجنے کی یقین دہانی ہے، نئی ملازمتوں، تربیتی اسکیم یا فنڈ کی منظوری نہیں۔ آئندہ عملی پیش رفت کسی سرکاری پروگرام، بجٹ، شراکت داری یا قابلِ پیمائش روزگار ہدف کے اعلان سے واضح ہوگی۔




