وزیراعظم شہباز شریف نے مذہبی علماء سے کہا ہے کہ وہ سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات اجاگر کرکے معاشرے میں اتحاد، بھائی چارہ، رواداری اور امن مضبوط کرنے میں کردار ادا کریں۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اسلام آباد میں سالانہ بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کی سماجی رہنمائی، خصوصاً نوجوانوں کو فرقہ واریت، انتہاپسندی اور گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ برداشت، مکالمہ، معافی اور ہمدردی کو فروغ دیا جائے اور اختلاف رائے مسلمانوں میں تقسیم کا سبب نہ بنے۔ انہوں نے نوجوان نسل کے کردار اور اقدار کو اسوۂ حسنہ کے مطابق تشکیل دینے کی بات کی۔ یہ نکات حکومت کے سربراہ کا پالیسی و مذہبی خطاب ہیں؛ ان سے کسی نئے قانون یا انتظامی حکم کا خودکار نفاذ ثابت نہیں ہوتا۔

شہباز شریف نے نیشنل رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے تیار کردہ فریم ورک کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے اسلام آباد میں نافذ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومتیں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں فریم ورک کے تمام اجزا، پیمائش کے اشاریے یا صوبہ وار عمل درآمد کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس کے عملی نتائج متعلقہ اداروں کی علیحدہ رپورٹنگ سے واضح ہوں گے۔

وزیراعظم کے مطابق نوجوانوں کو انتہا پسند اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں کا سامنا ہے، اس لیے ان کے سوالات کا جواب حکمت، دینی علم اور جدید تعلیم کے امتزاج سے دینا چاہیے۔ انہوں نے مدارس سے فارغ التحصیل علماء کے لیے دیانت اور مضبوط اخلاقی کردار کی اہمیت بھی بیان کی اور مذہبی منابر کو اتحاد کا پیغام پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی اپیل کی۔

خطاب میں علاقائی امن، مسلم ممالک کے باہمی روابط اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر ہوا۔ ان امور پر وزیراعظم کے بیانات سیاسی و سفارتی مؤقف ہیں اور ہر دعوے کا آزاد نتیجہ الگ شواہد سے طے ہوگا۔ وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے نوجوانوں کو سیرت سے رہنمائی لینے کی تلقین کی، جبکہ کانفرنس میں علماء کے خطابات اور سیرت سے متعلق کتابوں کے مصنفین کو انعامات دینے کی تقریب بھی ہوئی۔ موجودہ خبر کانفرنس، خطاب اور بیان کردہ ترجیحات کی رپورٹ ہے؛ آئندہ قابلِ جانچ پیش رفت عملی تعلیمی اور سماجی پروگراموں سے سامنے آئے گی۔