وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام کی تنصیب اور فعالیت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق ہدایات کے بعد ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے سرکاری اسپتالوں سے ان کے موجودہ حفاظتی انتظامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ یہ حکم نظام کی موجودگی کے ساتھ اس کے قابلِ استعمال ہونے کی جانچ پر بھی مرکوز ہے۔
رپورٹ میں ندیم ناصر کے حوالے سے کہا گیا کہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ خبر میں صوبے بھر کے اسپتالوں کی تعداد، منصوبے کی مجموعی لاگت یا تکمیل کی ایک مشترکہ آخری تاریخ بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے ہدایات کے عملی نفاذ کی رفتار ہر ادارے کی موجودہ حالت اور ضروری کام کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالرحمان نے ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ مختلف سرکاری اسپتالوں کا دورہ کیا۔ معائنے میں فائر الارم، ہائیڈرنٹس اور ہنگامی اخراج کے راستوں کی دستیابی اور فعالیت دیکھی گئی۔ صرف آلات موجود ہونا کافی نہیں؛ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ یہ بھی جانچ رہی ہے کہ ہنگامی حالت میں وہ کام کرسکیں اور عملہ محفوظ انخلا کا راستہ استعمال کرسکے۔
ڈپٹی کمشنر نے مریضوں اور اسپتال ملازمین کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا اور کہا کہ کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ متعلقہ حکام کو خامیاں فوری دور کرنے اور ہنگامی تیاری کے ضروری اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ رپورٹ میں کسی مخصوص اسپتال کے خلاف کارروائی یا کسی افسر کی ذمہ داری طے ہونے کا ذکر نہیں، اس لیے اس مرحلے کو معائنہ اور اصلاحی عمل سمجھا جانا چاہیے۔
اس مہم کی قابلِ تصدیق کامیابی کے لیے ہر اسپتال کا معائنہ ریکارڈ، درست کیے گئے نقائص، آلات کی آزمائش، ہنگامی راستوں کی دستیابی اور عملے کی تربیت اہم ہوں گے۔ موجودہ خبر وزیراعلیٰ کی ہدایت، رپورٹس طلب کرنے اور ابتدائی معائنوں کی تصدیق کرتی ہے؛ پورے صوبے میں نظام مکمل ہونے کا دعویٰ ابھی نہیں کیا گیا۔ آئندہ سرکاری پیش رفت سے معلوم ہوگا کہ کتنے اسپتال مطلوبہ معیار تک پہنچے اور کن مقامات پر مزید کام باقی رہا۔




