پاکستان بھر میں عید میلاد النبی ﷺ مذہبی عقیدت، احترام اور امن و سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ منائی گئی۔ دی نیشن کے مطابق دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ ملک بھر میں سرکاری تعطیل رہی۔ نماز فجر کے بعد امت مسلمہ کے اتحاد اور پاکستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

اسلام آباد میں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس دن کی مرکزی سرکاری تقریب تھی۔ رپورٹ کے مطابق کانفرنس کا موضوع سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں نوجوان نسل کا تحفظ، ترقی اور کردار سازی رکھا گیا۔ اس موضوع کے ذریعے مذہبی تعلیمات کو نوجوانوں کی اخلاقی تربیت، سماجی ذمہ داری اور موجودہ دور کے مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

ملک کے مختلف شہروں میں میلاد کے جلوس نکالے گئے، جہاں علما اور مقررین نے نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ اور تعلیمات کے مختلف پہلو بیان کیے اور سنت پر عمل کی تلقین کی۔ مساجد میں درود و سلام، محافل نعت اور میلاد کی تقریبات منعقد ہوئیں، جبکہ سیرت سے متعلق سیمینار اور کانفرنسیں بھی ہوئیں۔ ہر شہر کے جلوس کا راستہ، وقت اور انتظام مقامی حکام اور منتظمین کے مطابق مختلف تھا۔

گلیوں، محلوں، بازاروں، مساجد اور سرکاری و نجی عمارتوں کو سبز جھنڈیوں، روشنیوں اور آرائشی سامان سے سجایا گیا۔ اہم سڑکوں اور بازاروں میں استقبالی محرابیں بنائی گئیں اور عقیدت مندوں نے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کے آرائشی نمونے بھی تیار کیے۔ یہ سرگرمیاں مذہبی عقیدت کے عوامی اظہار کا حصہ رہیں۔

پچھلی خبر میں کراچی، راولپنڈی اور پشاور کے سکیورٹی اور ٹریفک منصوبوں کی تفصیل دی گئی تھی؛ موجودہ رپورٹ الگ قومی واقعے یعنی دن کی تقریبات، دعاؤں، کانفرنس اور جلوسوں کے انعقاد پر مرکوز ہے۔ کسی ایک مقام کے ہجوم، بندش یا سکیورٹی صورتحال کو پورے ملک پر لاگو نہیں کیا گیا۔

دن کی تقریبات کا بنیادی پیغام سیرت النبی ﷺ سے رہنمائی، باہمی احترام، فلاح اور امن تھا۔ دستیاب قومی رپورٹ میں کسی بڑے ملک گیر ناخوشگوار واقعے کی تفصیل شامل نہیں۔ مقامی سطح کی حتمی معلومات متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے باضابطہ بیانات سے واضح ہوں گی۔