خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں لاپتا ہونے والی ڈیڑھ سالہ بچی کی لاش گھر کے اندر واقع کنویں سے برآمد ہوئی ہے۔ ایکسپریس اردو نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ گاؤں قدرہ میں پیش آیا۔ بچی کی گمشدگی کے بعد ابتدا میں اہل خانہ اور متعلقہ افراد کو شبہ تھا کہ شاید اسے اغوا کیا گیا ہے، تاہم لاش ملنے کے بعد کیس کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔
پولیس کے مطابق لاش کو کنویں سے نکالنے کے بعد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال صوابی منتقل کیا گیا تاکہ پوسٹ مارٹم کیا جا سکے۔ رپورٹ میں موت کی حتمی وجہ، واقعے کا وقت، کنویں کی حفاظتی حالت یا کسی شخص کے خلاف الزام کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے حادثہ، غفلت یا کسی مجرمانہ عمل کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
پوسٹ مارٹم اس معاملے میں بنیادی طبی شہادت فراہم کرسکتا ہے، مگر اس کے ساتھ جائے وقوع کا معائنہ، گھر میں موجود افراد کے بیانات، گمشدگی اور لاش ملنے کے درمیان وقت کی ترتیب اور ممکنہ مادی شواہد بھی تفتیش کے لیے اہم ہوں گے۔ پولیس کی آئندہ باضابطہ رپورٹ سے معلوم ہوگا کہ آیا مقدمہ حادثاتی موت کے طور پر آگے بڑھتا ہے یا مزید قانونی دفعات شامل کی جاتی ہیں۔
خبر میں کسی گرفتاری، نامزد ملزم یا اغوا کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ابتدائی اغوا کا شبہ محض گمشدگی کے وقت سامنے آیا تھا اور اسے ثابت شدہ واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح کنویں سے لاش ملنا بذات خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ بچی وہاں کیسے پہنچی؛ اس سوال کا جواب تفتیش اور طبی معائنے سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔
کم عمر بچوں کی گمشدگی یا گھریلو حادثے سے متعلق خبروں میں غیر مصدقہ دعوے خاندان کے لیے مزید تکلیف اور تفتیش پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ موجودہ قابلِ تصدیق معلومات صرف اتنی ہیں کہ بچی لاپتا تھی، اس کی لاش گھر کے کنویں سے ملی، پولیس نے معاملہ اپنی تحویل میں لیا اور لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دی۔ اردو ہیڈ لائنز کسی نئی پولیس یا طبی رپورٹ کو الگ اور واضح نسبت کے ساتھ شامل کرے گا۔




