خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے چار نئے کیس سامنے آئے ہیں اور محکمہ صحت نے اس امر کے پیش نظر کانٹیکٹ ٹریسنگ اور قریبی افراد کی ٹیسٹنگ کا فیصلہ کیا ہے کہ مریضوں میں سے کسی کی بھی حالیہ بیرون ملک سفر کی تاریخ نہیں ہے۔ صحت حکام کے مطابق نئے مریضوں میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں، جنہیں طبی ہدایات کے ساتھ گھروں میں آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔

ڈان کے مطابق خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کو گزشتہ ہفتے خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے مشتبہ مریضوں کے نمونے موصول ہوئے تھے۔ ہفتے کو ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد چاروں کیسز کی تصدیق کی گئی۔ دو مریض نوشہرہ جبکہ ایک ایک پشاور اور مردان سے تعلق رکھتے ہیں۔

محکمہ صحت کے انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم کی رپورٹ کے مطابق ان نئے کیسز کے بعد رواں سال صوبے میں ایم پاکس کے مریضوں کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 13 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ایک مریض کی موت رپورٹ ہوئی۔ حکام اور ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ کسی فرد میں ایم پاکس کی تشخیص اور موت کا اندراج خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ موت کی واحد وجہ وائرس ہی تھا، خصوصاً جب دیگر طبی پیچیدگیاں بھی موجود ہوں۔

نئے کیسز کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ ماضی میں صوبے میں سامنے آنے والے کئی مریض بیرون ملک سفر سے منسلک تھے۔ موجودہ چار مریضوں کی ایسی تاریخ نہ ہونے کے باعث ماہرین نے ممکنہ مقامی منتقلی کی چھان بین پر زور دیا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر مقامی یا کمیونٹی ٹرانسمیشن کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار نہیں دیا گیا؛ کانٹیکٹ ٹریسنگ، وبائیاتی تحقیق اور مزید ٹیسٹنگ سے صورتحال واضح ہوگی۔

صحت حکام نے متاثرہ اضلاع کے ہسپتالوں کو مشتبہ مریضوں کے نمونے بروقت لینے، تشخیص کی تصدیق اور انفیکشن کنٹرول اقدامات پر عمل کی ہدایات دی ہیں۔ ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں مناسب آئسولیشن سہولتیں قائم رکھنے، آلودہ مواد سے غیر محفوظ رابطہ روکنے اور طبی عملے کے لیے حفاظتی اقدامات مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

ایم پاکس براہ راست جسمانی رابطے، متاثرہ جلد یا جسمانی رطوبتوں اور آلودہ مواد کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں صوبائی حکام کا اگلا اہم مرحلہ نئے مریضوں کے رابطوں کی شناخت، ممکنہ اضافی کیسز کی جلد تشخیص اور یہ طے کرنا ہوگا کہ وائرس کی منتقلی محدود رابطوں تک رہی یا وسیع تر مقامی پھیلاؤ کا کوئی ثبوت موجود ہے۔