اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج چھ ماہ مکمل ہونے پر ختم کر دیا جائے گا، تاہم صوبے میں ایمرجنسی امن کی بحالی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا ہدف اسی چھ ماہ کی مدت میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر پارلیمانی امور نے یہ وضاحت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے ریمارکس کے جواب میں قومی اسمبلی میں دی۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا مقصد سیاسی اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ صوبے میں امن بحال کرنا اور انتظامی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ یہ حکومت کا موقف ہے، جبکہ اپوزیشن نے ان اقدامات پر سیاسی اور آئینی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق خصوصی انتظامات پورے صوبے پر لاگو ہیں، جبکہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ 12 اضلاع کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی ادارے ضرورت کے وقت وزیراعلیٰ یا گورنر سیکرٹریٹ کے ذریعے جانے کے بجائے براہ راست وفاقی حکومت سے معاونت مانگ سکیں گے۔
وزیر نے قومی اسمبلی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی ہے، جسے تین مراحل میں نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبائی پولیس کو جدید ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں، سازوسامان اور تربیت فراہم کرکے اس کی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں صحت، تعلیم، صفائی اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ تیسرے مرحلے میں زیر التوا ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق اس پیکج کا سب سے بڑا حصہ ان 12 اضلاع پر خرچ کیا جائے گا جو دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت چار سے چھ ماہ میں ان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ پولیس کی استعداد بہتر بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے افغانستان سے متعلق بھی کہا کہ پاکستان سفارتی ذرائع استعمال کر چکا ہے اور افغان حکام سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور سرحد پار آمدورفت روکنے کا مطالبہ کیا۔
وزیر نے خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے متعلق ان خدشات کو بھی مسترد کیا کہ خصوصی انتظامات کا مقصد صوبے کے قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے، تاہم معدنی ترقی سے حاصل ہونے والی آمدن صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث سے واضح ہے کہ گورنر راج کی مدت، ایمرجنسی کے تسلسل اور وفاقی سکیورٹی اقدامات پر سیاسی اختلاف برقرار ہے، جبکہ حکومت نے چھ ماہ کی مدت کو امن بحالی کے ہدف سے جوڑا ہے۔
