چارسدہ/پشاور: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ایسے عناصر جو پاکستان کے آئین اور ریاستی نظام کو تسلیم نہیں کرتے، ان کے ساتھ مذاکرات یا رعایت کی پالیسی اختیار نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور صوبائی پولیس کی عملی صلاحیت بڑھانے کو امن کی بحالی کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔

گورنر نے یہ بات چارسدہ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ایس پی عمران الدین خان اور کانسٹیبل کاظم جان کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ دونوں اہلکار دہشت گردی کے خلاف فرائض کی انجام دہی کے تناظر میں سرکاری سطح پر خراج عقیدت کے مستحق قرار دیے گئے۔ کنڈی نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو صوبے کے امن کے لیے اہم قرار دیا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا پولیس کو جدید ہتھیار اور مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صرف سیاسی بیانات کافی نہیں بلکہ پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مناسب تربیت، سازوسامان، انٹیلی جنس معاونت اور مالی سہولت درکار ہے۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی ضروری قرار دیا۔

گورنر نے امن و امان کو صوبے کی معاشی ترقی اور سرمایہ کاری سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمی، روزگار اور ترقیاتی منصوبے اسی وقت پائیدار انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں جب شہریوں اور سرمایہ کاروں کو سلامتی کا اعتماد حاصل ہو۔ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ برسوں کے دوران پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اہلکار متعدد حملوں کا نشانہ بنے ہیں، جس کے باعث صوبائی پولیس کی استعداد اور وسائل کا سوال مسلسل پالیسی بحث کا حصہ ہے۔

مذاکرات سے متعلق گورنر کا بیان ان کا سیاسی اور انتظامی مؤقف ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی میں وفاقی و صوبائی حکومتیں، پارلیمانی فورمز، سکیورٹی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے محکمے مختلف کردار رکھتے ہیں، اس لیے گورنر کا بیان بذات خود کسی نئی قانونی پالیسی یا باضابطہ حکومتی حکم کا متبادل نہیں ہے۔

کنڈی نے زور دیا کہ ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے ساتھ مقامی پولیس کو مضبوط بنانا طویل مدتی امن کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہونے سے نہ صرف شہری زندگی معمول پر آسکتی ہے بلکہ سرمایہ کاری اور ترقی کے امکانات بھی بہتر ہوں گے۔ تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے باعث انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی دوبارہ قومی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔