پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران سرکاری فنڈز کے اجرا اور نگرانی کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں، جن کا مقصد مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام، منظوری کے عمل کو دستاویزی بنانا اور سرکاری رقوم کی نقل و حرکت کی روزانہ بنیاد پر نگرانی یقینی بنانا ہے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق فنڈز کا اجرا مجاز اتھارٹی کی منظوری اور مقررہ تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔
ڈان میں شائع اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری نوٹیفکیشن میں فنڈ مینجمنٹ کے لیے سخت طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ہر ادائیگی یا فنڈ ریلیز کے متعلق معاون دستاویزات محفوظ رکھنا اور ان کی جانچ کرنا لازم ہوگا تاکہ متعلقہ محکموں کے سربراہان کو باقاعدہ رپورٹنگ کی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے مالی فیصلوں کا واضح ریکارڈ قائم کرنا ہے جن میں سرکاری وسائل استعمال ہوتے ہیں۔
نئی ہدایات کے تحت ہر فنڈ ریلیز کو اسی دن SAP نظام میں درج کرنا ہوگا اور پبلک فنانشل مینجمنٹ، یعنی PFM، ڈیش بورڈ کو روزانہ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس ڈیجیٹل ریکارڈنگ سے حکومت فنڈز کے اجرا کی تازہ صورتحال پر نظر رکھ سکے گی اور کاغذی کارروائی اور مرکزی مالی ریکارڈ کے درمیان فرق پیدا ہونے کے امکانات کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہنگامی نوعیت کے فنڈز بھی پیشگی سرکاری اجازت کے بغیر جاری نہیں کیے جا سکیں گے۔ بجٹ افسران کو اپنے متعلقہ سیکریٹریز کے پاس ہفتہ وار سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جس سے محکموں کے اندر جواب دہی کی ایک اضافی سطح قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ نے فنڈز کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر، غفلت یا مالی بدعنوانی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی تنبیہ بھی کی ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص افسر یا سابقہ بے ضابطگی کے خلاف نئی کارروائی کا ذکر نہیں؛ یہ ہدایات عمومی مالی نظم و نسق کے لیے جاری کی گئی ہیں۔
ان اقدامات کی عملی مؤثریت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تمام صوبائی محکمے SAP اندراج، روزانہ ڈیش بورڈ اپ ڈیٹس، دستاویزی ثبوت اور ہفتہ وار تصدیق کے تقاضوں پر کس حد تک مسلسل عمل کرتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت محکمہ خزانہ کے نوٹیفکیشن اور اس میں مقرر کیے گئے نئے کنٹرولز تک محدود ہے، جبکہ ان کے نتائج آئندہ مالی نگرانی اور آڈٹ میں واضح ہوں گے۔

