خیبر پختونخوا میں ایک ہفتے کے دوران ڈینگی کے 98 تصدیق شدہ کیس سامنے آئے ہیں، جو گزشتہ 34 ہفتوں میں کسی ایک ہفتے کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ محکمہ صحت کے انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں اب تک 3 ہزار 487 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 581 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔

ڈان کی چار ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اس سے پچھلے ہفتے صوبے میں 87 کیس ریکارڈ ہوئے تھے۔ تازہ ہفتے میں کوہاٹ 41 نئے مریضوں کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ضلع رہا، جبکہ پشاور میں 33 اور بنوں میں 10 کیس رپورٹ ہوئے۔ دوسرے مقامی طور پر متاثرہ اضلاع میں ہفتہ وار تعداد ایک ہندسے میں رہی۔

مجموعی اعداد میں پشاور 220 تصدیق شدہ کیس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد کوہاٹ میں 209 اور بنوں میں 52 کیس ریکارڈ ہوئے۔ ہری پور میں 26، ڈیرہ اسماعیل خان میں 11 اور باجوڑ، صوابی اور سوات میں دس دس کیس رپورٹ ہوئے۔ چارسدہ میں نو، نوشہرہ اور مہمند میں آٹھ آٹھ کیس سامنے آئے، جبکہ باقی متاثرہ اضلاع میں مجموعی تعداد ایک سے سات کے درمیان بتائی گئی۔

صحت حکام نے کہا ہے کہ گرم اور مرطوب موسم مچھر کی افزائش کے لیے سازگار ہے اور ڈینگی کی زیادہ منتقلی کا موجودہ دور اکتوبر کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے بالخصوص کوہاٹ میں بڑھتے کیسز کو موسمی حالات سے جوڑا، مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ فوری ردعمل کے باعث اب تک بڑے پھیلاؤ کو روکا گیا ہے۔ صورت حال کو ’’قابو میں‘‘ قرار دینا حکام کا موجودہ جائزہ ہے، جبکہ ہفتہ وار اضافہ مسلسل نگرانی کی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 11 اضلاع میں ڈینگی لاروا کی افزائش کے مقامات ملے جنہیں مکینیکل اور کیمیائی طریقوں سے ختم کیا گیا۔ صوبے بھر میں 2 لاکھ 11 ہزار 206 گھروں کا معائنہ کیا گیا؛ 529 گھروں میں ملنے والا لاروا تلف کیا گیا۔ عملے نے 7 لاکھ 79 ہزار 318 برتن یا پانی رکھنے کی جگہیں دیکھیں، جن میں سے 934 میں لاروا پایا گیا، جبکہ باہر کے 286 مثبت مقامات پر کیمیائی اسپرے کیا گیا۔

محکمہ صحت نے آگاہی کے لیے 59 ہزار 267 کمیونٹی نشستیں منعقد کرنے کی اطلاع دی۔ ان سرگرمیوں میں مردوں اور خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جبکہ 35 سیمینار اور واکس بھی منعقد کی گئیں۔ صحت کارکن گھروں میں جا کر کھلے برتنوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے خطرات، پانی ڈھانپ کر رکھنے اور افزائش گاہیں ختم کرنے کے طریقوں سے متعلق معلومات فراہم کررہے ہیں۔

محکمہ صحت تمام اضلاع سے پی سی آر نمونے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری تک مفت پہنچانے کی سہولت دے رہا ہے۔ تاہم حکام نے شکایت کی کہ بعض میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز مریضوں کی تفصیلی فہرستیں باقاعدگی سے شیئر نہیں کررہے، جس سے خصوصاً پشاور میں مؤثر حکمت عملی بنانے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ یہ انتظامی مسئلہ متعلقہ اداروں کے ردعمل اور ڈیٹا کی مزید جانچ کا متقاضی ہے۔

سرکاری اعداد کے مطابق گزشتہ سال اسی مدت تک صوبے میں ایک ہزار سے زیادہ کیس اور چار اموات رپورٹ ہوچکی تھیں، جبکہ رواں سال اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ سالانہ موازنہ نسبتاً کم مجموعی بوجھ دکھاتا ہے، لیکن تازہ ہفتہ وار بلند سطح خطرے کے خاتمے کا ثبوت نہیں۔ صحت حکام نے نگرانی، بروقت تشخیص، لاروا کنٹرول اور عوامی احتیاط جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔