راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا میں 3 سے 5 ستمبر کے دوران مختلف سکیورٹی کارروائیوں میں 20 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ بیان میں متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا، جن میں سرحدی دراندازی کی کوششیں اور الگ الگ انٹیلی جنس یا مشترکہ کارروائیاں شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاکستان-افغانستان سرحد کے قریب ایک گروہ کی نقل و حرکت کا پتا چلنے پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، جس کے نتیجے میں سات دہشت گرد مارے گئے۔ اس سے قبل 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب اسی علاقے میں دراندازی کی ایک کوشش کے دوران پہلے 15 اور بعد میں مزید 10 دہشت گردوں کے مارے جانے کا بتایا گیا تھا، جس سے اس مخصوص واقعے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 25 بتائی گئی۔
بیان کے مطابق خیبر پختونخوا کے کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دو الگ مقابلوں میں مجموعی طور پر مزید چار دہشت گرد مارے گئے۔ فوج نے کہا کہ متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی دوسرے مسلح فرد کی موجودگی کی صورت میں خطرہ ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے مارے جانے والے افراد کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک قرار دیتے ہوئے ریاستی اصطلاح "فتنہ الخوارج" استعمال کی اور ان پر بھارت کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا۔ یہ دعوے فوجی بیان کا حصہ ہیں؛ ڈان کی رپورٹ میں ان الزامات کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
فوجی بیان میں افغانستان کی طالبان حکومت پر بھی الزام لگایا گیا کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر ایسے گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ وہ افغانستان سے پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔ افغان حکام ماضی میں ان الزامات کی تردید یا اپنے دائرہ اختیار میں دہشت گرد سرگرمیوں کی اجازت نہ دینے کا مؤقف پیش کرتے رہے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا اور سرحدی دراندازی روکنے اور دہشت گردی کے خاتمے کو ریاستی ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کے استعمال کو روکیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خیبر پختونخوا، بالخصوص سابق قبائلی اضلاع، میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد حملوں اور سکیورٹی واقعات میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں "عزمِ استحکام" کے تحت جاری رہیں گی۔




