اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ سے ملاقات کے دوران کراچی سے پشاور تک مین لائن-1 ریلوے منصوبے کی جلد اپ گریڈیشن اور سنگِ بنیاد کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق ملاقات کا مرکزی موضوع ایم ایل-1 کی جدید کاری تھا، جسے حکومت نے قومی سطح کے اہم انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن سے ملک میں مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی روابط مضبوط کرنے اور بڑے صنعتی منصوبوں کو سہارا دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ منصوبے کا عملی آغاز جلد کیا جائے تاکہ ریلوے رابطوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ڈان کے مطابق ایم ایل-1 کی مجموعی لاگت تقریباً 10 ارب ڈالر بتائی گئی ہے اور پاکستان اس منصوبے سمیت مختلف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اقدامات کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے زیادہ مالی تعاون کا خواہاں ہے۔ پاکستان کراچی تا روہڑی حصے کے لیے اے ڈی بی سے تقریباً 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت پہلے ہی حاصل کر چکا ہے۔ یہ حصہ 1,670 کلومیٹر طویل ایم ایل-1 منصوبے کے ابتدائی مرحلوں میں شامل ہے۔
اس سے قبل منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے جولائی میں کہا تھا کہ ایم ایل-1 کے پہلے مرحلے کا سنگِ بنیاد اگلے سال کے اوائل میں رکھنے کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے مالی ڈھانچے میں پاکستانی، چینی اور کثیرالجہتی ذرائع کو شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اے ڈی بی کی مالی معاونت سے کام آگے بڑھانا چین کے ساتھ طے شدہ سی پیک فریم ورک کے خلاف نہیں۔
ملاقات میں پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے طویل المدتی ترقیاتی تعاون اور 2026 سے 2030 کے لیے نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے ڈی بی نے مارچ 2026 میں پانچ سالہ حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا خاکہ پیش کیا تھا، جس کا مقصد پائیدار اور جامع معاشی ترقی، نجی شعبے کی شمولیت اور بنیادی خدمات و انفراسٹرکچر کی بہتری میں مدد دینا ہے۔
وزیراعظم نے اے ڈی بی کی پاکستان میں شہری انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات سے متعلق منصوبوں میں شراکت کو سراہا۔ دونوں جانب سے نجی شعبے، توانائی و غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نئی شراکت داری حکمتِ عملی کی ترجیحات کو ایسے عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے جو معاشی نمو اور عوامی معیارِ زندگی میں بہتری لا سکیں۔




