اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ملازمین اور متعلقہ ریکارڈ تک رسائی سے متعلق دو اپیلوں پر فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی کسی رولنگ کو محض بنیاد بنا کر شہریوں کے حقِ معلومات کو محدود نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون کے تحت واضح طور پر یہ نہ بتایا جائے کہ معلومات جاری کرنے سے ہونے والا نقصان عوامی مفاد سے زیادہ کیوں ہے۔
یہ فیصلہ صحافی سعدیہ مظہر کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خلاف دائر دو اپیلوں پر دیا گیا۔ درخواستوں میں جنوری 2018 کے بعد ڈیپوٹیشن پر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں آنے والے افسران کے نام، ان کے اصل محکمے، گریڈ، تقرری کی تاریخیں، ترقیوں اور سیکریٹریٹ میں انضمام سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملازمین سے متعلق فائل نوٹس، سفارشات اور بعض اجلاسوں کے منٹس اسپیکر کی 4 اکتوبر 2022 کی رولنگ کے تحت خفیہ قرار دیے گئے ہیں۔ اس رولنگ میں کمیٹی منٹس، بریفنگ مواد، ورکنگ پیپرز اور ملازمین کے بعض ذاتی ریکارڈ سمیت مختلف دستاویزات کو رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے مقاصد کے لیے کلاسیفائیڈ قرار دیا گیا تھا۔
کمیشن نے تسلیم کیا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے سربراہ کی حیثیت سے اسپیکر بعض حالات میں ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت درجہ بندی کے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں، لیکن یہ اختیار قانون میں مقرر شرائط کا پابند ہے۔ پی آئی سی کے مطابق 2022 کی رولنگ میں ایسی وجوہ درج نہیں تھیں جن سے ثابت ہو کہ معلومات کے افشا سے پہنچنے والا نقصان عوامی مفاد سے زیادہ ہے، اس لیے یہ رولنگ مطلوبہ ریکارڈ کو قانونی طور پر خفیہ رکھنے کے لیے کافی نہیں۔
کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ تقرری اور ترقی کے وہ نوٹیفکیشن جو پہلے ہی سرکاری گزٹ میں شائع ہو چکے ہوں یا عوامی طور پر دستیاب ہوں، انہیں حقِ معلومات کے قانون کے تحت روکنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ اسی طرح درخواست گزار سے شناختی کارڈ کی نقل مانگنے اور اس کی ذاتی حاضری نہ ہونے کو درخواست مسترد کرنے کی وجہ قرار دینے والے اعتراضات بھی کمیشن نے مسترد کر دیے۔
فیصلے میں قومی اسمبلی کے متعلقہ افسر کو ہدایت کی گئی کہ ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کا مخصوص لنک درخواست گزار کو فراہم کیا جائے اور باقی مطلوبہ ریکارڈ، بشمول گزٹ میں شائع شدہ دستاویزات کی مصدقہ نقول، حکم موصول ہونے کے 10 دن کے اندر دی جائیں۔
پی آئی سی نے مزید واضح کیا کہ رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 25 کے تحت یہ قانون متصادم قانونی یا ضابطہ جاتی دفعات پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے کا دائرہ شہریوں کے حقِ معلومات، سرکاری اداروں کی شفافیت اور ملازمت سے متعلق ایسے ریکارڈ تک رسائی سے جڑا ہے جو پہلے ہی سرکاری دستاویزات یا گزٹ کا حصہ بن چکا ہو۔




