راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، کے مطابق خیبر پختونخوا میں 15 سے 17 ستمبر 2026 کے دوران مختلف سکیورٹی کارروائیوں اور ایک بم حملے میں 10 شدت پسند مارے گئے جبکہ 6 فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ فوجی ترجمان کے بیان کی تفصیلات پاکستانی ذرائع ابلاغ نے 18 ستمبر کو شائع کیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد 6 شدت پسند مارے گئے۔ فوجی ترجمان نے ان افراد کو ’’فتنہ الخوارج‘‘ سے وابستہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہیں بیرونی سرپرستی حاصل تھی۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب رپورٹوں میں نہیں کی گئی، اس لیے اسے سرکاری مؤقف کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہنگو ضلع میں ایک الگ جھڑپ کے دوران مزید 4 شدت پسند مارے گئے۔ یوں 15 سے 17 ستمبر کے دوران دونوں مقامات پر ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی مجموعی تعداد 10 بتائی گئی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائیوں کے بعد اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا اور مارے گئے افراد ماضی میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔

فوجی ترجمان نے مزید بتایا کہ 17 ستمبر کو سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈی، سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 6 فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاع دی گئی تاکہ کسی ممکنہ موجودگی کا سراغ لگایا جا سکے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان اور عزمِ استحکام کے فریم ورک کے تحت جاری رہیں گی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ برسوں کے دوران عسکریت پسندانہ تشدد اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ قومی سلامتی کے اہم مسائل میں شامل رہا ہے۔

دستیاب رپورٹوں میں فوجی بیان کے بنیادی نکات ایک جیسے ہیں، تاہم مارے گئے افراد کی شناخت، مبینہ بیرونی معاونت اور بعض آپریشنل تفصیلات کی آزاد ذرائع سے علیحدہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔