خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی نے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور سابق صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے اہل صنعتی یونٹس کو ان کی جانب سے حاصل کی جانے والی مخصوص قابلِ ٹیکس خدمات پر مکمل سیلز ٹیکس چھوٹ دے دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ رعایت صوبائی حکومت کی منظوری سے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے تحت جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے دی گئی ہے۔ چھوٹ یکم اگست 2026 سے مؤثر ہوگی اور، اگر اس سے پہلے واپس نہ لی گئی، تو 30 جون 2028 تک نافذ رہے گی۔

نوٹیفکیشن کے تحت رعایت ہر کاروبار یا ہر خدمت پر خودکار طور پر لاگو نہیں ہوگی۔ اہل صنعتی ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ جسمانی طور پر سابق فاٹا یا پاٹا کے علاقے میں قائم ہو، وہیں اپنی تجارتی و صنعتی سرگرمی انجام دے رہا ہو اور متعلقہ قانون کے تحت صرف ودہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر رجسٹرڈ ہو۔ جس قابلِ ٹیکس خدمت پر چھوٹ مانگی جائے گی، اسے اس ادارے کی صنعتی سرگرمی کے لیے خصوصی طور پر حاصل کیا گیا ہو اور خدمت کی انجام دہی، استعمال اور کھپت بھی انہی علاقوں کے اندر ہوئی ہو۔

علاقے سے باہر فراہم کی جانے والی یا اپنی نوعیت کے باعث کسی ایک مقام تک محدود نہ رہنے والی خدمات کو رعایت سے خارج رکھا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق سامان کی نقل و حمل، انشورنس اور سکیورٹی خدمات اس خارج شدہ دائرے میں شامل ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک، ڈیجیٹل، ورچوئل، آن لائن یا کسی دوسرے دور دراز ذریعے سے فراہم کی جانے والی خدمات پر بھی چھوٹ دستیاب نہیں ہوگی، خواہ انہیں سابق فاٹا یا پاٹا میں قائم اہل صنعتی یونٹ ہی کیوں نہ استعمال کرے۔

رعایت حاصل کرنے والے ادارے کو اپنی سیلز ٹیکس ریٹرن یا ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ میں حاصل شدہ تمام قابلِ ٹیکس خدمات کی مکمل تفصیل درج کرنا ہوگی اور مقررہ ریکارڈ و دستاویزات محفوظ رکھنا ہوں گی۔ اگر کے پی آر اے کو معلوم ہو کہ کوئی شرط پوری نہیں کی گئی، کوئی اہم حقیقت چھپائی گئی یا معلومات غلط بیان کی گئیں تو متعلقہ ٹیکس مدت کے لیے رعایت واپس لی جاسکے گی اور مستثنیٰ رقم قانون کے تحت وصول کی جائے گی۔ اس لیے نوٹیفکیشن کو بغیر جانچ کے عمومی ٹیکس معافی نہیں بلکہ شرائط کے ساتھ دی گئی محدود رعایت سمجھنا چاہیے۔

اہل صنعتی یونٹ کی تعریف میں ایسا آزادانہ ملکیت اور انتظام رکھنے والا ادارہ شامل کیا گیا ہے جو سابق فاٹا یا پاٹا میں قائم ہو اور وہیں صنعتی سرگرمی انجام دے۔ نوٹیفکیشن میں مینوفیکچرنگ، معدنی پراسیسنگ، زرعی بنیادوں، جنگلات و لکڑی، انجینئرنگ اور فیبری کیشن سمیت متعدد شعبے درج ہیں۔ ان میں خوردنی تیل و گھی، آٹا، ماربل، گرینائٹ، صابن پتھر، کرومائٹ، چونا پتھر، قیمتی پتھر، ادویات، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، پھل، زیتون، مصالحہ جات، جڑی بوٹیوں کی مصنوعات، اسٹیل ری رولنگ، اسٹیل یا ایلومینیم فیبری کیشن اور انجینئرنگ مصنوعات سے متعلق یونٹس شامل ہوسکتے ہیں۔

اس کے برعکس کسی ایسے شخص یا کاروباری گروپ کی فرنچائز، برانچ، ذیلی کمپنی، ڈویژن، سیٹلائٹ یونٹ یا دوسرا جزوی ادارہ رعایت کا حق دار نہیں ہوگا جس کا اسی یا بڑی حد تک مماثل صنعتی سرگرمی والا دوسرا یونٹ صوبے کے آباد علاقوں یا پاکستان کے کسی اور حصے میں موجود ہو۔ یہ پابندی اس امر کو یقینی بنانے کے لیے رکھی گئی ہے کہ رعایت بنیادی طور پر قبائلی علاقوں میں آزاد صنعتی سرگرمی کو ملے، نہ کہ کسی دوسرے مقام کے کاروبار کی شاخ کو۔

نوٹیفکیشن نے سابقہ ادائیگیوں کے بارے میں بھی حد مقرر کی ہے۔ یکم اگست 2026 سے پہلے جو ٹیکس کاٹ کر سرکاری خزانے میں جمع کرایا جاچکا ہو، اس پر اہل یونٹ ریفنڈ یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ نہیں کرسکے گا۔ یوں رعایت کا اطلاق مقررہ مؤثر تاریخ کے بعد اور تمام شرائط پوری ہونے کی صورت میں ہوگا، نہ کہ ماضی کی جمع شدہ رقم پر۔

اس فیصلے کا ممکنہ مقصد سابق قبائلی علاقوں میں صنعتی لاگت کم اور مقامی کاروباری سرگرمی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، لیکن اس کا حقیقی مالی و معاشی اثر اس بات سے واضح ہوگا کہ کتنے ادارے اہل قرار پاتے ہیں، کتنی خدمات پر رعایت استعمال ہوتی ہے اور سرمایہ کاری یا روزگار میں کیا قابلِ پیمائش تبدیلی آتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت کے پی آر اے کا مشروط نوٹیفکیشن، اس کی مدت، اہل شعبوں اور خارج شدہ خدمات کی واضح حدود ہیں۔