کراچی: کراچی پورٹ ٹرسٹ نے دو غیر ملکی بلک کیریئرز کو بیک وقت ہینڈل کیا ہے جن پر مجموعی طور پر 101 ہزار ٹن ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی) کھاد اور گندم لدی ہوئی ہے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز پر کی گئی اور وزارت بحری امور نے اسے بندرگاہ کی آپریشنل صلاحیت اور ضروری درآمدی سامان کی ترسیل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے مطابق ایم وی ژونگ چانگ 538 پر 50 ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد جبکہ ایم وی گوکووا ایم پر 51 ہزار ٹن گندم موجود تھی۔ دونوں جہازوں کو کراچی بندرگاہ پر ترجیحی بنیادوں پر برتھ فراہم کی گئی تاکہ زرعی ان پٹ اور بنیادی غذائی جنس کی ترسیل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے آپریشنل اعداد و شمار کے مطابق کھاد لانے والا جہاز برتھ 10/11 پر موجود تھا اور اس کے کارگو کا بڑا حصہ اتارا جا چکا تھا۔ گندم بردار جہاز برتھ 16/17 پر لگایا گیا۔ حکام کے مطابق بیک وقت دونوں جہازوں کی ہینڈلنگ کے لیے انجینئرنگ، پائلٹیج، ٹرمینل آپریشن، ڈاک ورکرز اور زمینی ٹرانسپورٹ کے درمیان مربوط انتظام ضروری تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کھاد کی بروقت دستیابی زرعی پیداوار کے لیے اہم ہے جبکہ گندم کی ترسیل براہ راست غذائی سپلائی چین سے جڑی ہے۔ ان کے مطابق بندرگاہوں پر جہازوں کے انتظار اور کارگو کلیئرنس کے وقت میں کمی سے درآمدی سامان کی اندرون ملک نقل و حرکت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس آپریشن میں شریک کے پی ٹی عملے، ٹرمینل آپریٹر اور دیگر کارکنوں کی کارکردگی کو سراہا۔

کے پی ٹی چیئرمین ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ شاہد احمد کے مطابق کراچی پورٹ ملکی تجارت اور سپلائی چین میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، بالخصوص زرعی ان پٹ اور بنیادی اشیائے خورونوش کی درآمد میں۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہی انفراسٹرکچر اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کے اقدامات جاری ہیں۔

وزارت بحری امور کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا مقصد جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم میں کمی، برتھ کے بہتر استعمال، بندرگاہی انتظام اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں اضافہ ہے۔ تاہم 101 ہزار ٹن کا عدد دونوں جہازوں کے مجموعی لادے گئے کارگو کی مقدار ہے؛ اسے کسی وسیع تر مدت کی مجموعی بندرگاہی درآمدات یا مکمل طور پر اتارے جا چکے کارگو کے اعداد و شمار کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔