اسلام آباد: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے انٹربینک کنسورشیم (SCO-IBC) کی 2026-27 کے لیے صدارت سنبھال لی ہے، جبکہ حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئرمین سلطان علی الانا نے کنسورشیم کے چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ یہ پیش رفت اسی مدت میں شنگھائی تعاون تنظیم کی مجموعی صدارت پاکستان کے پاس آنے کے ساتھ ہوئی ہے، جس سے علاقائی مالیاتی تعاون کے ایجنڈے میں پاکستان کے کردار کو اضافی اہمیت ملی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اس پلیٹ فارم کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری، سرحد پار تجارت اور سرمایہ کاری، مالیاتی رابطے اور علاقائی انضمام کو مضبوط بنانے پر توجہ دے گا۔ SCO-IBC رکن ممالک کے بینکوں کے درمیان تعاون کا ادارہ جاتی فورم ہے، جس کا مقصد بڑے علاقائی منصوبوں کے لیے مالی تعاون کے امکانات پیدا کرنا اور پائیدار ترقی سے متعلق سرگرمیوں میں رابطہ بڑھانا ہے۔
حبیب بینک 2014 میں کنسورشیم کے ساتھ پارٹنر بینک کے طور پر منسلک ہوا تھا اور 2018 میں رکن بینک بنا۔ جولائی 2026 میں بشکیک میں ہونے والے سالانہ کونسل اجلاس میں HBL کو 2026-27 کی مدت کے لیے کونسل کی صدارت کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اب اس انتظام کے عملی آغاز کے ساتھ سلطان علی الانا کنسورشیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور HBL چیئرمین کے درمیان جون میں ہونے والی ملاقات میں مقامی کرنسیوں میں باہمی ادائیگی، بینکنگ تعاون کے معاہدے کو موجودہ ضروریات کے مطابق بہتر بنانے اور کثیرملکی منصوبوں کی مالی معاونت جیسے امور زیر بحث آئے تھے۔ پاکستان نے بھی حالیہ SCO اجلاسوں میں مقامی کرنسی سیٹلمنٹ اور انٹربینک کنسورشیم کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ کنسورشیم کے ذریعے کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون، علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت اور سرحد پار بڑے منصوبوں کے لیے نئے مالیاتی طریقہ کار تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی ترجیحات میں مالیاتی روابط کو ایسے عملی منصوبوں سے جوڑنا شامل ہے جو رکن ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنائیں۔
SCO-IBC کی صدارت کسی نئے ترقیاتی بینک کے قیام یا خودکار طور پر نئی فنڈنگ کی منظوری کے مترادف نہیں ہے۔ یہ موجودہ بینکنگ کنسورشیم کی قیادت اور رابطہ کاری کی ذمہ داری ہے، اور کسی مخصوص منصوبے کی مالی معاونت متعلقہ بینکوں، حکومتوں اور ادارہ جاتی منظوریوں سے مشروط ہوگی۔ تاہم پاکستان کے لیے یہ مدت علاقائی مالیاتی تعاون کے قواعد، ترجیحات اور منصوبوں پر گفتگو کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
